30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدیم ہے اور ذاتی ہے بندہ کی مشیت حادث ہے اور رب کی مشیت کے تابع،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ"غرضیکہ یہ فرمان بہت اعلیٰ ہے۔
|
4779 -[30] وَفِي رِوَايَةٍ مُنْقَطِعًا قَالَ:"لَا تَقُولُوا:مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وحْدَه «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة " |
اور ایک منقطع روایت میں ہے فرمایا نہ کہو کہ چاہا الله نے اور چاہا محمد نے(صلی اللہ علیہ وسلم)اور کہو کہ صرف ماشاءالله ۱؎(شرح السنہ) |
۱؎ یہ فرمان عالی انتہائی انکساروتواضع سے ہے کہ ہماری مشیت کا ذکر الله کی مشیت کے ساتھ ثم سے بھی نہ کرو صرف ماشاءالله کہو۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں بہت جگہ حضور کا نام شریف رب کے نام سے ملایا گیا ہے دیکھو"اَنْ اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ،وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"لہذا یہ حدیث یا ضعیف ہے یا ان آیات سے منسوخ ہے استحباب کے بیان کے لیے ہے یا اظہار تواضع و انکسار کے لیے ہے بہرحال اس ملانے میں شرعًا گناہ نہیں۔
|
4780 -[31] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا منافق کو سردار نہ کہو ۱؎ کہ اگر وہ سید ہوا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ۲؎(ابوداؤ د) |
۱؎ اس حکم میں کافر،فاسق،منافق سب ہی داخل ہیں بلا ضرورت خوشامد کے لیے ان لوگوں کو ایسے الفاظ کہنے سخت جرم ہیں، رب تعالی نے عزیز مصر کو حضرت یوسف علیہ السلام کا سید نہ کہا بلکہ زلیخا کا سید یعنی خاوند کہا"اَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ"۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ بے دین کو نہ تو صرف سید کہو نہ سید القوم کہو بے دین تو ذلیل ہے سید عزت والا ہوتا ہے،یوں ہی اسے سردار،سرور،حضور وغیرہ کہنا حرام ہے کہ تعظیمی الفاظ کفار کے لیے استعمال کرنا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہیں ضرورت دین یا ضرورت دنیاوی کی وجہ سے یہ کہنا معاف ہے یوں ہی بیدینوں کو مولانا تعظیمًا کہنا جائز نہیں کہ مولیٰ تو سید سے بھی زیادہ تعظیم کا لفظ ہے الله تعالٰی کے لیے مولانا فرمایا گیا سیدنا نہیں کہا گیا انت مولانا،ہاں اگر مولیٰ بمعنی غلام مراد لے کر اسے مولانا کہا جاوے تو جائز، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِخْوٰنُکُمْ فِی الدِّیۡنِ وَ مَوٰلِیۡکُمْ" بہرحال توریہ جائز ہے تعظیم ناجائز،اس کی پوری تحقیق یہاں ہی مرقات میں دیکھو۔
|
4781 -[32] عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: اسْمِي حَزْنٌ قَالَ: «بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ» قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي. قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے عبدالحمید ابن جبیر ابن شیبہ سے فرماتے ہیں کہ میں سعید ابن جبیر کے پاس بیٹھاتھا ۱؎ تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ ان کے دادا حزن نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا تمہارا نام کیا ہے عرض کیا میرا نام حزن ہے فرمایا بلکہ تم سہل ہو ۲؎ عرض کیا میں وہ نام نہ بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۳؎ ابن مسیب نے کہا کہ پھر ہم میں ہمیشہ رنج و غم رہا ۴؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع