دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۵؎ یعنی ابوداؤ د کہتے ہیں کہ ان تمام ناموں کی تبدیلی کی احادیث مع اسنادوں کے میرے پاس موجود ہیں مگر چونکہ وہ حدیثیں احکام شرعیہ سے متعلق نہیں ہیں اس لیے میں نے اصل حدیث تو بیان کردی اسنادیں چھوڑ دیں کیونکہ ان پر جرح قدح کی ضرورت نہیں۔

4777 -[28]

وَعَن أبي مسعودٍ الأنصاريِّ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي (زَعَمُوا)قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حُذَيْفَة

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ انہوں نے ابو عبدالله سے کہا یا ابوعبدالله نے ابو مسعود سے کہا ۱؎ کہ آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے زعموا کے متعلق کیا فرماتے سنا ۲؎  فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ انسان کی بری سواری ہے ۳؎(ابوداؤ د)اور فرمایا کہ ابو عبدالله حذیفہ ہیں۔

۱؎ یہ شک اس حدیث کے راویوں میں سے کسی راوی کو ہے کہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی نہ کسی سے پوچھا ابو مسعود انصاری کے حالات تو بارہا بیان ہوچکے ہیں اور ابو عبدالله کنیت ہے حضرت حذیفہ ابن یمان کی محدثین جب ابو عبدالله بولتے ہیں تو آپ مراد ہوتے ہیں۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر بات کے متعلق کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں بات بات میں یہ لفظ بولنے کے عادی ہوتے ہیں فرمایئے تو خصلت اچھی ہے یا بری اگر بری ہے تو کس درجہ کی اور آپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ فرماتے سنا ہے یانہیں۔

۳؎  مطیہ وہ اونٹنی جس پر سوار ہو کر کسی منزل پر پہنچا جاوے،اس لفظ زعموا کو حضور انور نے سواری قرار دیا اور سواری بھی بری جو منزل مقصود پر نہ پہنچائے اس لیے کہ اس لفظ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ خبر دینے والا خود تو اس پر یقین رکھتا نہیں اور خبر دینے والے کا پتہ بھی صحیح نہیں بتاتا کہ فلاں نے کہا بلکہ یوں بولتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ اگر یہ خبر جھوٹی ہو تو میں اس کا ذمہ دار نہیں نہ مجھے اس کے ذمہ دار کی خبر ہے،غیر ذمہ داری کی باتیں کرنا برا ہے جو بات کہو ذمہ داری سے کہو احتیاط سے بولو زبان پر قفل لگاؤ  منہ کو لگام دو اس ایک کلمہ میں بہت نصیحتیں ہیں۔

4778 -[29]

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فلَان ". رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا یہ نہ کہو کہ الله نے چاہا اور فلاں نے چاہا لیکن کہو کہ الله نے چاہا پھر فلاں نے چاہا ۱؎ (احمد،ابوداؤ د)

۱؎ یعنی جب کسی وعدہ یا آئندہ خبر کو تم الله تعالٰی کی مشیت پر موقوف کرو اور ساتھ ہی کسی اور کے ارادہ کا بھی ذکر کرو تو رب ومربوب خالق و مخلوق کے نام واؤ  سے نہ ملا کہ اس میں مساوات یا بے ادبی کا احتمال ہے بلکہ ثم کہو تاکہ ثم کی تراخی سے ربوبیت و عبدیت کا فرق معلوم ہوجاوے رب کا ذکر پہلے بندے کا بعد میں اور بیچ میں ثم ہو کہ الله تعالٰی کی مشیت و ارادہ دائمی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن