30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم انسانوں کے جانوروں کے بلکہ شہروں بستیوں کے برے نام بدل کر اچھے نام رکھ دیتے تھے۔ چنانچہ ایک شخص کا نام تھا اسود حضور انور نے اس کا نام ابیض رکھا،مدینہ منورہ کا نام یثرب تھا حضور انور نے اس کا نام مدینہ طیبہ،ابطح،بطحا وغیرہ رکھے،کفار کے لیے برعکس عمل تھا چنانچہ ابوالحکم کا نام حضور نے ابوجہل رکھا۔
|
4775 -[26] وَعَن بشير بن مَيْمُون عَن أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أصْرمُ كانَ فِي النَّفرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمك؟» قَالَ: «بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ 4776 -[27] وَقَالَ:وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْم الْعَاصِ وعزير وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَغُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ وَقَالَ: تركت أسانيدها للاختصار |
روایت ہے بشیر ابن میمون سے وہ اپنے چچا اسامہ ابن اخدری سے ۱؎ راوی کہ ایک شخص کو اصرم کہا جاتا تھا ۲؎ وہ اس جماعت میں تھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام کیا ہے وہ بولے اصرم فرمایا بلکہ تم زرعہ ہو۳؎(ابوداؤ د) اور کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عاص عزیز عتلہ شیطان حکم عراب حباب شہاب نام تبدیل فرمائے۴؎ اور کہا کہ میں نے ان کی اسنادیں مختصر کرنے کے لیے چھوڑ دیں ۵؎ |
۱؎ بشیر ابن میمون تابعی ہیں،ثقہ ہیں،ان کے چچا اسامہ صحابی ہیں،ان سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے ،تمیمی ہیں، بصری ہیں۔ (اشعہ،مرقات)
۲؎ اصرم بنا ہے صرم سے بمعنی ٹوٹ جانا،کٹ جانا،اصرم کے معنی ہوئے ٹوٹا ہوا،کٹا ہوا۔
۳؎ کیونکہ زرعہ بنا ہے زرع سے بمعنی کھیتی،ظاہر ہے کہ کھیتی سے دانہ بڑھتا ہے اس لیے کھیتی مبارک ہے اوریہ نام مبارک ہے، اصرم کے معنی فاسد ہیں۔اس لیے اپنا نام بدل دو۔
۴؎ کیونکہ عاص مخفف ہے عاصی کا جس کے معنی ہیں گنہگار،اطاعت الٰہی سے علیٰحدہ یہ مؤمن کی شان نہیں مؤمن اطاعت شعار ہوتا ہے۔عتلہ بنا ہے عتل سے بمعنی سختی شدت،رب تعالٰی فرماتاہے:"عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ"اب ایک مضبوط اوزار کو عتلہ کہتے ہیں جس سے دیوار وغیرہ کھودی جاوے مسلمان سخت نہیں ہوتا،نیز عزیز اسماء الہیہ میں سے ہے،عزت سے بنا ہے مسلمان میں فروتنی عجز و نیا زچاہیے۔شیطان لقب ہے ابلیس کا بنا ہے شیط سے بمعنی جلنا ہلاک ہونا یا شطن سے بمعنی بھلائی سے دوری،حکم صفت مشبہ حکومت یا حکم کا بمعنی دائمی حکومت والا یہ رب تعالٰی کی صفت ہے۔غراب بنا ہے غرب سے بمعنی دوری یہ نام ہے کوے کا کہ وہ بہت دور نکل جاتا ہے،حباب شیطان کا نام بھی ہے اور ایک قسم کے سانپ کو بھی کہتے ہیں لہذا یہ نام بھی منحوس ہے اور شہاب آگ کے شعلہ کو بھی کہتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے تارے کو بھی جس سے شیاطین کو بھی مارا جاتا ہے مگر یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر شہاب کو دین کی طرف مضاف کردیا جاوے اور نام ہو شہاب الدین توکراہۃ قطعًا نہیں بلاکراہۃ جائز ہے کہ اب یہ فاسد معنی نکل گئے چمکدار لہذا کراہۃ نہ رہی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع