دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎ یہاں عنب سے مراد درخت انگور ہے نہ کہ انگور کا پھل،حبلہ درخت انگور کی جڑکو کہتے ہیں اور عنب انگور کے پھل کو بھی کہتے ہیں اور درخت انگور کو بھی۔

4763 -[14]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدهرُ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انگور کا نام کرم نہ رکھو اور نہ کہو ہائے محرومی زمانہ کی ۱؎ کیونکہ الله ہی زمانہ ہے ۲؎(بخاری)

۱؎ اہل عرب ہر مصیبت کو زمانہ کی طرف سے سمجھتے تھے اس لیے مصیبت پڑنے پر زمانہ کی شکایات کرتے بلکہ زمانہ کو گالیاں دیتے تھے انکے محاورہ کے الفاظ میں اسے یہ لفظ بھی یا خیبۃ الدھر ہائے زمانہ کی محرومی اور زمانہ کا نقصان و خسارہ ہم کو اس سے منع فرمایا گیا۔

۲؎ اس جملہ کی شرح کتاب الایمان میں گزرگئی اس جملہ کے معنی ہیں کہ الله تعالٰی ہی زمانہ کو پھیرنے والا ہے۔زمانہ کو برا کہنا در پردہ رب تعالٰی کی شان میں گستاخی کرنا ہے،ہمارے ہاں بھی یہ بیماری ہے عوام کاذکر کیا بعض پڑھے لکھے لوگ زمانہ کو برا کہتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے اپنے بزرگ رشید احمد صاحب گنگوہی کا مرثیہ لکھا تو اس میں زمانہ کو بڑی جلی کٹی سنائیں وہ مرثیہ گنگوہی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہیں اپنے بزرگوں کو نبیوں سے بڑھا دیتے ہیں۔

4764 -[15]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هوَ الدَّهْر» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله نے کہ تم میں سےکوئی زمانہ کو گالی نہ دے کیونکہ الله ہی زمانہ ہے ۱؎(مسلم)

۱؎ اسلام میں زمانہ کو مؤثر نہیں مانا گیا مؤثر اور متصرف الله تعالٰی ہے،بعض لوگ سردی گرمی کو رات و دن کو گالیاں دے دیتے ہیں وہ بھی گنہگار ہیں۔

4765 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ:خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي".مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذُكِرَ حديثُ أبي هريرةَ: «يُؤذيني ابنُ آدمَ» فِي «بَاب الْإِيمَان»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا لیکن کہے کہ میرا نفس پریشان ہوگیا ۱؎ (مسلم، بخاری)اور ابوہریرہ کی حدیث کہ مجھے ابن آدم نے ستایا باب الایمان میں ذکر کی گئی ۲؎

۱؎  عربی میں خبث اور نفس ہم معنی ہیں بمعنی پریشان برائی مگر خبث فساد عقیدہ پربھی بولا جاتا ہے کفر بیدینی خباثت ہے لہذا اپنے لیے یہ لفظ مشترک استعمال نہ کرو کہ اس میں ایک معنی سے اپنے کفر یا بے دینی کا اقرار ہے بلکہ بجائے خبیث کی لقست کہو گویا جس کے لفظ کے دو معنی ہوں اچھے و برے ایسے لفظ کو اپنے لیے نہ بولو۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ جو صبح کو پڑا سوتا رہتا ہےو ہ خبیث النفس کسلان اٹھتا ہے وہاں اپنے کو یا کسی خاص شخص کو خبیث نہیں کہا گیا بلکہ ایک قاعدہ کلیہ بیان ہوا،کسی معین مسلمان پرلعنت کرنا حرام ہے مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹے پر لعنت۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن