دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎ عبد بمعنی عابد بھی ہے اور بمعنی خادم بھی بمعنی عابد ہو تو صرف رب تعالٰی کی طرف نسبت ہوگا جیسے عبدالله یا عباداللہ بمعنی خادم بندوں کی طرف مضاف ہوجاتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ"چونکہ اس میں عابد کے معنی کا بھی احتمال ہے لہذا عبدی کہنا مناسب نہیں،یوں ہی امہ کے معنی ہیں مملوک،حقیقی مالک رب تعالٰی ہی ہے اور حقیقی مملوک ہم سب اس کے ہیں لہذا بہتر یہ ہی ہے کہ امۃ کو اپنی طرف نسبت نہ کرو۔

۲؎  خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ لازمی حکم لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ" اہل عرب دن رات کہتے ہیں عبدی فقہا، ہمیشہ فرماتے ہیں عبدی حر لہذا نہ اہل عرب گنہگار ہیں نہ فقہاء۔

۲؎  رب بمعنی مربی،بندہ کو کہنا جائز ہے یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے نوکر سے کہا تھا"ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ"قرآن کریم میں ہے"رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا"۔

۴؎ یہاں بھی یہ ہی ہے کہ مولیٰ کہنا بالکل جائز ہے حضور انور نے خود فرمایا مولی القوم منھم مگر چونکہ مولیٰ کے چند معنی ہیں: ایک معنی وہ ہیں جو صرف رب تعالٰی کی صفت ہے اس لیے اگر یہ لفظ بندے کے لیے نہ بولے تو بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ حدیثیں منسوخ ہوں ان کی ناسخ وہ احادیث و آیات ہوں جن میں بندوں کے لیے مولیٰ،عبد،سید وغیرہ کہا گیا ہے لہذا عبدالنبی،عبدالرسول وغیرہ نام جائز ہیں،صاحب درمختار کے شیخ کا نام عبدالنبی تھا دیکھو درمختار کا مقدمہ،اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔

4761 -[12]

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ فَإِنَّ الْكَرْمَ  قَلْبُ الْمُؤمن ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کرم نہ کہو کیونکہ کرم مؤمن کا دل ہے ۱؎ (مسلم)

۱؎ اہلِ عرب انگور کو اس لیے کرم کہتے تھے کہ اس سے شراب بنتی ہے شراب پی کر انسان نشہ میں بہت سخی بن جاتا ہے کہ اپنا مال جائز ناجائز جگہ خوب اڑاتا ہے،وہ سمجھتے تھے کہ انگور شراب کی اصل ہے اور شراب کرم و سخاوت کی اصل لہذا انگور گویا سراپا کرم و سخاوت ہے جب شراب حرام کی گئی تو انگور کو کرم کہنے سے بھی منع کردیا گیا اور فرمایا گیا کہ کرم تو مؤمن کا قلب یا خود مؤمن تم ایسا اچھا نام ایسی خبیث چیز کو کیوں دیتے ہو۔عربی میں اچھی زمین،انگور،حج،جہاد سب کو کرم کہتے ہیں، یہ حدیث اس کی طرف اشارہ کررہی ہے،رب فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ(مرقات)بہرحال یہ ممانعت یا محض تنزیہی ہے یا منسوخ ہے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں ہیں جو اشعہ نے بیان کیں۔

4762 -[13]

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ والحبلة "

اور مسلم کی ایک روایت میں وائل ابن حجر سے ہے فرمایا نہ کہو کرم لیکن کہو عنب اور حبلہ ۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن