30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ تو اس صورت میں تمہارے گھر سے نفع ،فتح،نجات کی نفی ہوجاوے گی نام رکھے تھے نیک فالی کے لیے مگر جب ان کی نفی کی گئی تو بدفالی ہوگی۔
۴؎ اس روایت میں نافع نہ تھا یہاں نافع بھی ہے۔خیال رہے کہ سب سے اعلیٰ و افضل نام محمد اور احمد ہے کہ رب کے محبوب کے نام ہیں پھر ابراہیم،اسماعیل وغیرہ کہ حضرات انبیاء کے نام ہیں،پھر عبدالله عبدالرحمن عبدالستار وغیرہ کہ ان میں اپنی عبدیت اور الله کی ربوبیت کا اعلان ہے،بے معنی یا برے معنی والے نام ممنوع ہیں جیسے،بدھو،تلو یا جیسے نسیم،ریاض،جاوید،اختر وغیرہ۔
|
4754 -[5] وَعَن جَابر قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ. ثُمَّ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِك. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ یعلیٰ،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان کی مثل نام رکھنے سے منع فرمادیں میں نے پھر آپ کو دیکھا کہ بعد میں اس سے خاموش رہے پھر وفات پاگئے ۱؎ اور اس سے منع نہ فرمایا۔(مسلم) |
۱؎ یعنی مجھے علامات سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور انور ان ناموں سے ممانعت فرمادیں گے مگر کی نہیں یا تو حضرت جابر کو ممانعت کی خبر نہ ہوئی،پچھلی روایت میں ممانعت گزرچکی اور نفی کی روایت پر ثبوت کی روایت مقدم ہوتی ہے یا یہاں مراد حرمت کی نہی ہے یعنی یہ نام رکھنا حرام نہ فرمایا اور پچھلی روایات میں تنزیہی کراہت کی نہی تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔یہاں مرقات میں ناموں کی بہت تفصیل ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے خوب،ولید،رباح،حکم،کلب کلیب وغیرہ ناموں سے منع فرمایا وہ ہی کراہت تنزیہی۔
|
4755 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ».رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا لله» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن الله کے نزدیک بدترین نام کا وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھاجاوے ۱؎(بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا الله کا سخت غضب ناک قیامت کے دن اور خبیث ترین وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھا جاوے خدا کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ۲؎ |
۱؎ اس لیے کہ ان ناموں میں فخروتکبر کا اظہار ہے نہ ذلت کے نام رکھو نہ فخروتکبر کے۔خیال رہے کہ ناموں کا اور حکم ہے القاب و خطابات کا دوسرا حکم۔کسی کو ملک العلماء کا خطاب دینا ممنوع نہیں نام رکھنا ممنوع ہے، ملک الاملاک کا ترجمہ ہے بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شہنشاہ اورظاہر ہے کہ اس نام میں تکبر ہے۔اس عبارت میں رجل سے پہلے نام محذوف ہے اور یہ اخنی الاسماء کی خبر ہے۔(اشعہ)
۲؎ یعنی حقیقی اور دائمی بادشاہ الله تعالٰی ہے بندوں کی بادشاہت و ملکیت عارضی ہے ایسے نام رکھنے والا گویا رب تعالٰی کا مقابلہ کرتا ہے۔خیال رہے کہ املاك جمع ہے ملك کی لام کے کسرہ سے اور ممالک جمع ہے ملک کی لام کے ضمہ سے ملوك جمع ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع