30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کردے کہ نام رکھے محمد،کنیت رکھے ابو القاسم،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں یہ ہی قول قوی ہے جو ہم نے عرض کیا کہ یہ حکم حیات شریف میں تھا۔(مرقات و اشعہ)حضرت علی نے حضور کے بعد اپنے بیٹے کا نام محمد کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے اور انہوں نے حضور سے پہلے پوچھا تھا کہ کیا میں آپ کے بعد اپنے کسی بیٹے کا نام محمد،کنیت ابو القاسم رکھ سکتا ہوں فرمایا تھا ہاں۔خیال رہے کہ اگر قاسم قوی ہو تقسیم بھی قوی ہوتی ہے،ڈول،چرسہ،رہٹ،ٹیوب ویل،دریا بادل سب ہی پانی تقسیم کرتے ہیں مگر ان کی تقسیموں میں جو فرق ہے وہ معلوم ہے۔سارے نبی اﷲ کی نعمتیں تقسیم کرتے تھے حضور بھی تقسیم کرتے ہیں حضورکی تقسیم بہت قوی ہے،تمام امتوں میں وضو تھا مگر اعضاء کا چمکنا حضور کی امت کے وضو سے ہے،پانچ نمازوں کا ثواب پچاس ہے،کیوں،اس لیے کہ یہ حضور کی تقسیم سے ملی ہیں اب پڑھو الله المعطی وانا القاسم۔
|
4752 -[3] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے ناموں میں رب تعالٰی کو بہت پسند نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہ نام اس لیے پیارے ہیں کہ ان میں اپنی عبدیت کو رب کی طرف نسبت کیا گیا ہے تو اس میں دونوں چیزوں کا اظہار ہے اپنی عبدیت،الله کی ربوبیت یعنی انبیاءکرام کے ناموں کے بعد یہ نام رب کو بہت پسند ہیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کسی نبی کے نام پر نام رکھے،اس کے بعد یہ بہتر ہے کہ یہ نام رکھے۔یہاں عبدالله اور عبدالرحمن بطور تمثیل فرمائے گئے اسماء الہیہ میں سے کسی کی طرف عبدیت کی طرف نسبت کرے بہتر ہے۔خیال رہے کہ ملائکہ کے نام پر نام رکھنا ممنوع ہے لہذا کسی چیز کا جبریل یا میکائیل نام نہ رکھو جیساکہ حدیث میں ہے۔(مرقات)چنانچہ بخاری نے اپنی تاریخ میں ایک حدیث نقل کی کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو۔
|
4753 -[4] وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " لَا تسمين غُلَاما يسارا وَلَا رباحا ولانجيحا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «لَا تسم غُلَاما رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا» |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے غلام کا نام نہ یسار رکھو ۱؎ نہ رباح نہ نجیح اور نہ افلح ۲؎ کیونکہ تم کہو گے کہ کیا یہاں وہ ہے ہوگا نہیں تو کہے گا نہیں ۳؎ (مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اپنے غلام کا نام نہ رباح رکھو نہ یسار نہ افلح نہ نافع ۴؎ |
۱؎ غلام سے مراد مطلقًا لڑکا ہے خواہ بیٹا ہو یا غلام یا کوئی اور،وہ جس کا نام رکھنا ہمارے قبضہ میں ہو۔نہی تنزیہہ کی ہے یعنی یہ نام بہتر نہیں۔
۲؎ یسار کے معنی ہیں فراخی،عسر کا مقابل، رباح کے معنی ہیں نفع خسارہ کا مقابل، نجیح کے معنی ہیں کامیاب ظفریاب،افلح کے معنی ہیں نجات والا یہ ممانعت صرف ان ناموں میں محدود نہیں بلکہ ان جیسے اور نام جن کی معنی میں خوبی و عمدگی ہو جیسے ظفر،برکت وغیرہ۔(اشعہ)یہ نام نہ رکھنا بہتر ہے اس کی وجہ خود بیان فرمارہے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع