30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اسامی الف کے فتح ی کی شد سے جمع اسم کی بروزن افاعیل،اسم سے مراد نام ہے خواہ عم ہو یا اور کچھ اس باب میں بتادیاجاوے گا کہ کیسا نام برا ہے کیسا اچھا۔
|
4750 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بكنيتي» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے ابو القاسم ۱؎ تو اس کی طرف نبی صلی الله علیہ سلم نے توجہ فرمائی وہ بولا کہ میں نے تو اس کو بلایا ہےتب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام تو رکھو میری کنیت نہ رکھو ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کسی شخص کا نام ابوالقاسم تھا اس نے اسے پکارا۔
۲؎ مقصد یہ ہے کہ اگر ہزاروں کے نام محمد ہوں تو دھوکہ نہ ہوگا کیونکہ حضور کو صرف نام سے پکارنا حرام ہے،اب جو حضور کو پکارے گا وہ یارسول الله کہے گا یامحمد نہ کہے گا،اگر یامحمد کہہ کر پکارے گا تو کسی اور محمد کو پکارے گا نہ کہ حضورکو، الله تعالٰی نے ہمارے حضور کو نام لے کر نہ پکارا یا ایہاالنبی یا ایہا الرسول سے پکارا لہذا نام کے اشتراک میں شبہ و دھوکہ نہ ہوگا کنیت کے اشتراک میں ضرور دھوکا ہوگا۔(مرقات)لہذا حدیث واضح ہے۔پس حضور انور کو یا ابا القاسم کہہ کر پکار سکتے ہیں کہ یہ حضور کا لقب ہے جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نبی الله مگر یامحمد کہہ کر نہیں پکارسکتے کہ محمد حضور کا نام شریف ہے،دیکھو مرقات حضور انور کے بڑے صاحبزادے کا نام قاسم تھا اس نام سے آپ کی کنیت ابوالقاسم ہوئی۔
|
4751 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ» مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو کیونکہ میں قاسم بنایا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی الله کی ہر نعمت تقسیم میرے ہاتھ سے ہوتی ہے دنیاوی نعمت ہو یا اخروی اس لیے حضرات صحابہ نے بارش،جنت، آنکھیں،دولت،اولاد حضور سے مانگی ہیں جب جنت ہی حضور سے مانگ لی تو دیگر چیزیں بدرجہ اولیٰ حضور سے مانگی جاسکتی ہیں اس کے لیے کہ ہماری کتاب سلطنت مصطفی اور جاء الحق کا مطالعہ کرو۔ دوسری روایت میں ہے الله المعطی وانا القاسم نہ الله کی عطا مقید ہے نہ حضور کی تقسیم رب فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت حضور کی حیات شریف میں تھی بعد وفات ہر طرح اجازت ہے خواہ حضور انور کا نام رکھے یا آپ کی کنیت یا دونوں جمع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع