30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغیر اجازت حاضر ہونے کی اجازت نہ تھی،رب تعالیٰ فرماتاہے: "لَا تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ"الخ مجالس خاصہ میں عام لوگ اجازت لے کر حاضر ہوتے تھے مگر کوئی خاص الخاص بغیر اجازت بھی یہاں اسی کا ذکر ہے۔
۳؎ حضور کا یہ تبسم اظہار خوشی یا اظہار کرم کے لیے ہوتا تھا۔
|
4747 -[3] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة فيضحكون ويبتسم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي: يتناشدون الشِّعْرَ |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھتے تھے اپنے اس مصلے سے جس میں فجر کی نماز پڑھتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا پھر جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھتے اور لوگ باتیں کرتے تھے تو جاہلیت کے زمانہ کے کاموں کے ذکر میں مشغول ہوجاتے تو ہنستے تھے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تھے ۱؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ وہ حضرات اشعار پڑھتے تھے۔ |
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز فجر کے بعد اشراق تک مصلے پر بیٹھا رہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ اس و قت تلاوت قرآن کرنا بہتر نہیں،جن اوقات میں سجدہ حرام ہے ان اوقات میں تلاوت قرآن افضل نہیں کہ اس وقت سجدۂ تلاوت نہ کرسکے گا۔تیسرے یہ کہ نفلی معتکف کو مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا جائز ہے یہ حضرات بہ نیت اعتکاف وہاں بیٹھتے تھے۔چوتھے یہ کہ مسجد میں جائز اشعار پڑھنا جائز بلکہ نعت شریف پڑھنا سنت صحابہ ہے۔پانچویں یہ کہ آخرت کی چیزیں کوئی اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا یہ صرف نبوت کے نور سے ہی معلوم ہوتی ہیں،دیکھو حضرات صحابہ کرام اب بعد اسلام اپنے زمانہ جاہلیت کی باتوں پر خود ہنستے تھے کہ ہم اس وقت کیسے نا سمجھ تھے اب حضور کے صدقہ سے سمجھ بوجھ میسر ہوئی۔چھٹے یہ کہ حضور انور بڑے ہی اخلاق کے مالک تھے کہ اپنے کو اپنے خدام کے ساتھ رکھتے تھے ان کے ہر کام میں شریک ہوجاتے تھے۔
|
4748 -[4] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جزء سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تبسم والا ہو ۲؎(ترمذی) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،زبیدی ہیں،زبید ایک قبیلہ ہے جو زبید نامی ایک شخص کی طرف منسوب ہے،آپ مصر میں سب سے آخری صحابی ہیں جو فوت ہوئے،اسی۸۰ ہجری میں مصر میں وفات پائی۔
۲؎ تبسم میں ہزار ہا حکمتیں ہیں،حضور کی ہر ادا میں رب تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع