30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ سبحان الله! کیا حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا کہ اس کا رنج دور کرنے کو حدیث پیش فرمائی اور فرمایا کہ اس سارے ہی واقعہ میں میں متبع ہوں متبدع نہیں ہوں۔(مرقات)
۷؎ مقصد یہ ہے کہ یہ موقع سلام کا نہ تھا بلکہ حمد الٰہی کا تھا اگر تم حسب موقعہ الحمد کہتے تو جواب پاتے ہر مقام کے لیے ذکر الله علیحدہ ہے۔خوشی کی خبر پر انا ﷲ نہ پڑھو غم کی خبر پر الحمدﷲ نہ کہو۔
|
4742 -[11] وَعَن عبيد بن رِفَاعَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت عبید ابن رفاعہ سے ۱؎ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا چھینکنے والے کو تین بار جواب دو پھر جو زیادہ کرے تو اگر چاہو جواب دو اگر چاہو نہ دو ۲؎(ابوداؤد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ عبید ابن رفاعہ تابعی ہیں،ان کے والد رفاعہ ابن رافع صحابی ہیں،ان کی کنیت ابو معاذ ہے،انصاری ہیں زرقی ہیں،بدر احد اور تمام غزوات نبوی میں شریک ہوئے، جنگ جمل میں حضرت علی کے ساتھ تھے،حضرت معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے،ان کے دو بیٹے ہیں عبید اور معاذ ایک بھتیجہ یحیی ابن خلاد لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی مسلمان کی تین چھینکوں کا جواب دینا سنت ہے مگر چوتھی چھینک کا جواب دینا سنت نہیں تمہاری مرضی پر ہے لیکن اگر جواب دیا تو ان شاءالله ثواب ملے گا کہ مسلمان کو دعا دینا عبادت ہے۔یہاں یہ ارشاد نہ ہوا کہ خود چھینکنے والا چوتھی چھینک پر الحمدﷲ کہے یا نہ کہے ظاہر یہ ہے کہ کہے حمد الٰہی بہتر ہی ہے۔
|
4743 -[12] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا اپنے بھائی کو تین بار جواب دو اگر زیادہ ہو تووہ زکام ہے ۱؎(ابوداؤد) اور فرمایا کہ میں انہیں نہیں جانتا ہوں مگر انہوں نے حدیث نبی صلی الله علیہ وسلم تک مرفوع کی ۲؎ |
۱؎ اور زکام ایک بیماری ہے بیماری کی چھینک کا جواب سنت نہیں۔خیال رہے کہ سنت نہ ہونا اور ہے خلاف سنت ہونا کچھ اور خلاف سنت چیز بدعت ہوتی ہے جس کا کرنا ممنوع ہوتا ہے اور سنت نہ ہونا ممنوع ہونے کی دلیل نہیں،بخاری شریف پڑھنا سنت نہیں مگر خلاف سنت نہیں اس لیے ممنوع نہیں،خلاف سنت وہ ہے جو سنت کو مٹادے اس کا فرق کتاب راہِ جنت میں ملاحظہ فرماؤ آج لوگوں نے ان دونوں میں فرق نہیں کیا۔
۲؎ قال کا فاعل ابوداؤد نہیں بلکہ وہ راوی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی یعنی سعید مقبری۔ مطلب یہ ہے کہ سعید مقبری کہتے ہیں کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کا قول نہیں بلکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ (لمعات)اگر مرفوع نہ بھی ہو تب بھی مرفوع کے حکم میں ہوگی کہ صحابی کا وہ قول جو قیاس سے وراء ہو مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔(اشعہ)جیساکہ کتب اصول فقہ میں مذکور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع