30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یا تو خود شیطان ہی داخل ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ مردود ہمارے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے مگر ہمارے منہ میں اس وقت گھستا ہے یا اس کے وسوسہ داخل ہوتے ہیں۔بہرحال جمائی کے وقت منہ پر ہاتھ ضرور رکھ لے کہ اس سے نہ شیطان داخل ہوگا نہ اس کے وسوسہ نہ ہوائی کیڑے مکوڑے۔
|
4738 -[7] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ ثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب چھینکتے تو اپنا چہرہ انور اپنے ہاتھ یا آستین سے ڈھانپ لیتے اور اس میں اپنی آواز پست کرتے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ چھینک کے وقت اپنا پورا چہرہ یا پورا منہ کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانپ لینا سنت ہے کہ اس سے رطوبت کی چھینٹیں نہ اوڑینگی اور اپنے یا دوسرے کے کپڑے خراب نہ ہوں گے اور چھینک کی آواز حتی الامکان پست کرنا بھی سنت ہے کہ یہ آواز بلند ہو تو بری معلوم ہوتی ہے لوگ اچھل پڑتے ہیں،چھینک کی آواز آہستہ نکلے الحمد کی آواز بلند ہو۔
|
4739 -[8] وَعَن أبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذا عطسَ أحدكُم فلْيقلْ: الحمدُ لله عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمك الله وَليقل هُوَ: يهديكم وَيصْلح بالكم " رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہے ۱؎ الله تم پر رحم کرے اور یہ کہے الله تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۲؎(ترمذی، دارمی) |
۱؎ عمل جو کوئی چھینک پر کہے الحمدﷲ علی کل حال اور اپنی زبان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو ان شاءالله دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا مجرب ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو کوئی چھینک پر کہے الحمدﷲ رب العالمین علی کل حال تو ان شاءالله اسے کبھی ڈاڑھ اور کان کا درد نہ ہوگا۔امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(ابن ابی شیبہ، مرقات)حق یہ ہے کہ تمام سننے والوں پٖر جواب دینا سنت ہے یعنی جواب چھینک سنت علی العین ہے۔
۲؎ کہ بال کے معنی دل،خیال،حال ہیں۔یہاں بمعنی حال ہے جب حال ہی ٹھیک ہوگیا تو دل و خیال بھی ٹھیک ہوجائیں گے اس لیے یہاں بال سے حال مراد لے تاکہ دعا جامع ہوجاوے۔
|
4740 -[9] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ یہود نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس چھینکا کرتے تھے ۱؎ امید یہ کرتے تھے کہ ان سے فرمادیں الله تم پر رحم کرے مگر آپ فرماتے الله تمہیں ہدایت دے تمہارا حال درست کرے ۲؎(ترمذی، ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع