30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ جمائی دفع کرنے کی تین تدبیر یں ہیں: جب جمائی آنے لگے تو ناک سے زور سے سانس نکا ل دے۔جب جمائی آنے لگے تو نیچا ہونٹ دانتوں میں دبالے۔جب جمائی آنے لگے تو یہ خیال کرے کہ حضرات انبیاء کرام کو جمائی نہیں آتی۔
۶؎ یعنی جب کوئی جمائی میں منہ پھیلاتا ہے اور ہاہ کہتا ہے تو شیطان خوب ٹھٹھہ مار کر ہنستا ہے کہ میں نے اسے پاگل بنادیا اپنا اثر اس پر کرلیا۔
۷؎ یہ حدیث بہت اسنادوں سے مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض آوازوں سےشیطان بھاگتا ہے، بعض آوازوں سے وہ خوش ہوتا ہے،الله کے ذکر کی آواز سے اسے تکلیف ہوتی ہے جمائی کی آواز سے وہ ہنستا ہے گانے باجے کی آواز پر وہ خوشی سے ناچتا ہوگا لہذا بری آوازوں سے بچو۔
|
4733 -[2] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " إِذا عطسَ أحدُكم فلْيقلِ: الحمدُ لِلَّهِ وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ - أَوْ صَاحِبُهُ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فإِذا قَالَ لَهُ يَرْحَمك الله قليقل: يهديكم الله وَيصْلح بالكم " رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہے الحمدﷲ اور اس کا بھائی اس کا ساتھی اس سے کہے یرحمک الله پھر جب کہے یرحمک الله تو یہ کہے يهديكم الله و يصلح بالكم ۱؎ (بخاری) |
۱؎ چونکہ چھینک الله تعالیٰ کی نعمت ہے لہذا اس پر الله کی حمد کرنی چاہیے،چونکہ اس حمد سے اس نے الله کی نعمت کی قدر کی لہذا سننے والے نے اسے دعا دی یرحمک الله،چونکہ اس دعا دینے والے نے اس پر احسان کیا لہذا احسان کا بدلہ احسان سے کرتے ہوئے یہ پھر اسے دعا دے اور کہے یہدیکم الله غرضکہ ان ذکروں کے ایرپھیر میں عجیب حکمت ہے۔
|
4734 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلم تحمَدِ الله» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخصوں نے چھینک لی تو حضور نے ایک کو جواب دیا ۱؎ دوسرے کو جواب نہ دیا تو اس شخص نے عرض کیا یارسول الله آپ نے ان کو جواب دیا مجھے نہ دیا فرمایا اس نے الله کی حمد کی تم نے نہ کی ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ چھینک کے جواب کو تشمیت کہتے ہیں یہ بنا ہے شمت سے بمعنی آفت و مصیبت یا لوگوں کا طعنہ۔اس سے ہے شماتت اعداء باب تفعیل سلب کے لیے ہے لہذا اس کے معنی ہوئے ہوئے مصیبت دور کرنا یعنی دعا دینا دعاء خیر کو تشمیت اسے لیے کہا جاتا ہے۔
۲؎ معلوم ہوا کہ چھینکنے والے کا جواب جب دیا جاوے جب وہ الحمدﷲ کہے اور یہ سنے بھی ایک شخص نے دیوار کے پیچھے چھینک لی تو حضرت عمر نے فرمایا یرحمك الله ان حمدت الله اگر تو نے رب کی حمد کی ہو تو خدا تجھ پر رحم کرے اگر اکیلا آدمی چھینک لے اور الحمدﷲ کہے کوئی جواب دینے والے نہ ہو تو خود ہی کہہ لے یغفر الله لی ولکم کیونکہ فرشتے اس کی چھینک کا جواب دیتے ہیں یہ ان کی نیت سے یہ دعاکرے جیسے نماز کے سلام میں فرشتوں کی نیت کرے اگر اکیلا ہو۔(مرقات)
|
4735 -[4] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے پھر خدا کی حمد کرے تو جواب دو اگر حمد نہ کرے تو اسے جواب نہ دو ۱؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع