30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ عطاس مصدر ہے عطۃ کا عطہ کے معنی ہیں چھینک تو عطاس کے معنی ہوئے چھینکنا اور تثاؤب مصدر ہے ثوباء کا ثوباء کے معنی ہیں سستی،تثاؤب کے معنی ہیں سستی کا طاری ہونا۔اصطلاح میں جمائی کو تثاؤب کہتے ہیں کہ اس میں سستی ظاہر ہوئی ہے،تثاؤب مہموزعین ہے نہ کہ اجوف یہ ہی قوی ہے۔
|
4732 -[1] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ.فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَان فَإِذا تثاءب أحدكُم فليرده مااستطاع فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذا قَالَ: هَا ضحك الشَّيْطَان مِنْهُ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں الله تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے ۱؎ اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے ۲؎ تو جب تم میں سے کوئی چھینکے اور الله کی حمد کرے تو ہر سننے والے مسلمان پر حق ہے اس سے کہے یرحمک الله ۳؎ لیکن جمائی وہ تو شیطان کیطرف سے۴؎ تو جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے اسے دفع کرے ۵؎ کیونکہ تم میں سے کوئی جب جمائی لیتا ہے تو اس سے شیطان ہنستا ہے ۶؎(بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ تم میں سے کوئی جب کہتا ہے ہاتو اس سے شیطان ہنستا ہے ۷؎ |
۱؎ چھینک سے دماغ صاف ہوتا ہے،چھینک آنے سے دماغ ہلکا ہوجاتا ہے،طبیعت کھل جاتی ہے جس سے عبادات پر زیادہ قدرت ہوتی ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ زکام آکر خیریت سے گزر جاوے تو بہت بیماریوں کا دفعیہ ہے۔
۲؎ جمائی سستی کی علامت ہے اس سے جسم میں جمود طاری ہوتا ہے،چھینک رب کو پسند ہے جمائی شیطان کو پسند اس لیے حضرات انبیاءکرام کو جمائی کبھی نہیں آتی۔
۳؎ بعض علماء فرماتے ہیں کہ چھینک کا جواب دینا فرض ہے وہ اس حدیث سے دلیل لیتے ہیں کہ فرمایا گیا حقا۔ عام علماء اسے سنت کہتے ہیں،فرض والوں میں بعض لوگ اسے فرض عین کہتے ہیں،بعض فرض کفایہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ چھینکنے والا الحمد ﷲ بلند آواز سے کہے تاکہ لوگ سن سکیں اور صرف سننے والے پر جواب ہے نہ سننے والے پر کچھ نہیں۔جواب چھینک کے متعلق علماء کا بڑا اختلاف ہے حق یہ ہے کہ اس کا جواب سنت علی العین ہے کہ ہر سننے والا جواب دے، یہاں حق بمعنی واجب یا لازم نہیں بلکہ بمعنی استحقاق ہے جیسے فرمایا گیا کہ مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں مریض کی عیادت کرنا،جنازہ میں شرکت کرنا وغیرہ۔
۴؎ یعنی شیطان کے اثر سے جمائی آتی ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے ہاہ کرنے پر وہ ہنستا ہے اسی لیے حضرت انبیاءکرام کو جمائی کبھی نہیں آئی جیسے کہ انہیں احتلام نہیں ہوتا کہ یہ شیطانی چیزیں ہیں۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع