30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ سبحان الله! آپ نے یہ عذر حضور سے عرض نہ کیا بلکہ فورًا کروٹ بدل لی یا اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
|
4720 -[14] وَعَن عليِّ بن شَيبَان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ وَفِي رِوَايَةٍ: حِجَارٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ«. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.وَفِي»مَعَالِمِ السّنَن «للخطابي» حجى " |
روایت ہے حضرت علی ابن شیبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو ایسے گھر کی چھت پر رات گزارے جس پر آڑ نہ ہو ایک روایت میں ہے کہ پتھر نہ ہو تو اس کی ذمہ داری ختم ہوگئی ۱؎(ابوداؤد)اور خطابی کی معالم سنن میں حجی ہے۔ |
۱؎ یعنی ایسی چھت پر نہ سوؤ جس کے کناروں پر دیوار کی آڑ نہ ہو جسے اردو میں منڈیر کہتے ہیں اگر سوؤ گے تو الله تعالیٰ نے جو تمہاری حفاظت کا ذمہ لیا ہے کہ اس کےلیے فرشتے مقرر کیے ہیں وہ اٹھ جاوے گا اور تم ہلاک ہوجاؤ گے۔
|
4721 -[15] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَامَ الرَّجُلُ عَلَى سطحٍ لَيْسَ بمحجورٍ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص ایسی چھت پر نہ سوئے جس پر آڑ نہ ہو ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ ایسی چھت پر سونے والے بہت دفعہ چھت سے گر کر مر گئے بلکہ بہتر ہے کہ چھت بغیر منڈیر رکھی ہی نہ جاوے پوری دیوار نہ ہو تو تھوڑی اونچی ہی بنادی جاوے تاکہ وہاں سے گرنے کا خطرہ نہ رہے اس فرمان میں بڑی حکمتیں ہیں۔
|
4722 -[16] وَعَن حذيفةَ قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کی زبان پر وہ لعنتی ہے ۱؎ جو حلقہ کے بیچ میں بیٹھے۔ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو کوئی کسی جلسہ میں آخر میں آوے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتاہوا بیچ میں پہنچے وہ لعنتی ہے چاہیے کہ اگر کنارہ پر جگہ ملے تو وہاں ہی بیٹھ جاوے۔دوسرے یہ کہ یہ شخص درمیان میں بیٹھا ہو اور لوگ اس کے اردگرد دست بستہ کھڑے ہوں یہ عمل متکبرین کا ہے بڑا آدمی بھی لوگوں کے ساتھ حلقہ میں بیٹھے۔ (مرقات و اشعہ)بعض لوگ مذاق دل لگی کرنے کے لیے کسی کو درمیان حلقہ میں بٹھاکر اسے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں وہ ہر طرف کے لوگوں سے مذاق کرتا ہے وہ بھی لعنتی ہے۔(اشعہ)
|
4723 -[17] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بہترین محفل وہ ہے جو وسیع تر ہو ۱؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع