دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

تہبند بندھا ہوا ہو،آئندہ حدیث میں پاؤں پر پاؤں رکھنے سے ممانعت آرہی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں لیٹنا جائز ہے خصوصًا ضرورت کے وقت یا  یہ  بحالت اعتکاف۔

4709 -[3]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله  صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنا ایک پاؤں دوسرے پر نہ رکھے جبکہ وہ اپنی پشت پر لیٹا ہو ۱؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث کے وہ ہی معنی ہیں جو ابھی اوپر بیان ہوئے کہ آدمی تہبند باندھے یا ڈھیلے پانچہ کا پاجامہ پہنے ہو اور پھر ایک پاؤں کھڑا کرے کھڑے ہوئے گھٹنے پر دوسرے پاؤں کی پنڈلی رکھے اس میں ستر کھل جانے کا سخت خطرہ ہوتا ہے اس لیے ممنوع ہے ویسے بھی اس طرح لیٹنا خلاف تہذیب معلوم ہوتا ہے خصوصًا لوگوں کے سامنے غرضکہ اس ممانعت میں بہت حکمتیں ہیں۔

4710 -[4]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يستلقين أحدكُم ثمَّ يضع رجلَيْهِ على الْأُخْرَى» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے کوئی نہ لیٹے کہ پھر ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لے ۱؎(مسلم)

۱؎ اس ممانعت کی وہ ہی صورت ہے جو ابھی بیان ہوئی کہ ایک  پاؤں کھڑا ہو دوسرا پاؤں گھٹنے پر رکھا ہو اور آدمی چت لیٹا ہو کہ اس صورت میں ستر کھلنے کا خطرہ ہے اگر ستر کھلنے کا خطرہ نہ ہو تو جائز ہے بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔

4711 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقد أعجبتْه نَفسه خسف بِهِ لأرض فَهُوَ بتجلجل فِيهَا إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ. لفصل الثَّانِي

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک شخص دو چادروں میں اکڑ کر چل رہاتھا ۱؎  اسے اپنا نفس بڑا پسند آیا تھا اسے زمین میں دھنسا دیا گیا تو وہ اس میں قیامت تک دھنستا چلا جارہا ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ شاید یہ شخص قارون تھا یا کوئی ملک فارس کا کافر،بعض نے فرمایا کہ یہ واقعہ قریب قیامت حضور صلی الله علیہ وسلم کے ایک امتی سے ہوگا اس صورت میں یتبختر بمعنی مستقبل ہوگا اور اعجبت خسف تمام افعال بمعنی مستقبل ہوں گے۔والله اعلم! اس سے معلوم ہوا کہ تکبروغرور کی چال چلنا بھی ممنوع بلکہ باعث عذاب ہے،مسلمان کی چال میں بھی تواضع چاہیے، رب تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی صفت یوں فرماتاہے: "الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا"ہمارے بندے وہ ہیں جو تواضع سے چلتے ہیں۔آج کل بعض لوگ چشمہ لگائے ننگے سر ہاتھ میں بیت گھماتے چلتے ہیں یہ متکبرانہ چال ہے اس سے بچو۔

۲؎  یتجلجل بنا ہے جلجلۃ سے اس کے معنی ہیں وہ حرکت جس کی آوازہو۔مقصد یہ ہے کہ تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے عجز کا انجام سرداری ہے۔شعر

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن