30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب ۱؎
۱؎ یہ ترتیب یہاں بہت ہی اچھی ہے انسان پہلے کھانے وغیرہ کے لیے بیٹھتا ہے پھر کھا کر سونے کے لیے لیٹتا ہے سوکر اٹھتا ہے تو مسجد وغیرہ کی طرف جاتا ہے لہذا بیٹھنا پہلے ہے،سونا بعد میں،چلنا اس کے بعد ہوتا ہے۔خیال رہے کہ جلوس ہر بیٹھنے کو کہتے ہیں خواہ کھڑے سے بیٹھے یا لیٹے سے بیٹھے،بعض شارحین نے فرمایا کہ کھڑے سے بیٹھنے کو قعود کہتے ہیں اور لیٹے سے بیٹھنےکو جلوس مگر پہلی بات قوی ہے،یہاں جلوس مصدرہے بمعنی بیٹھنا،کبھی یہ جالس کی جمع بھی ہوتی ہے جیسے رقود جمع ہے راقد کی،رب تعالیٰ فرماتاہے:"تَحْسَبُہُمْ اَیۡقَاظًا وَّ ہُمْ رُقُوۡدٌ"فلاں جگہ جلوس نکلا وہاں جلوس جمع جالس کی ہے، چونکہ یہ لوگ جگہ جگہ بیٹھتے ہوئے جاتے ہیں لہذا اس جماعت کو جلوس کہا جاتا ہے۔اس باب میں مستحب،جائز،مکروہ بیٹھکوں کا بھی ذکر ہوگا اور مستحب و مکروہ سونے کا بھی اور اچھے برے چلنے کا بھی۔
|
4707 -[1] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفنَاء الْكَعْبَة مُحْتَبِيًا بيدَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کعبہ کی صحن میں اکڑوں بیٹھے اپنے ہاتھوں پر ٹیک لگائے دیکھا ۱؎(بخاری) |
۱؎ گھر کے سامنے کی کھلی جگہ جس پر چھت نہ ہو فنا کہلاتی ہے جسے اردو میں صحن یا آنگن کہتے ہیں۔احتباء یہ ہے کہ دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں،پاؤں کے تلوے زمین سے لگے ہوں،چوتڑ زمین پر ہوں اور دونوں ہاتھ پنڈلیوں پر رکھے ہوں،ان کا حلقہ کیے ہوئے یہ اکڑوں بیٹھنے کی ایک قسم ہے،اس بیٹھک میں اظہار جزو انکسار ہے یہ بیٹھک سنت ہے۔(مرقات)کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم اس طرح بھی بیٹھے ہیں۔
|
4708 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عبَّادِ بن تَمِيم عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى قدمَيه على الْأُخْرَى. مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت عباد ابن تمیم سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنا ایک قدم دوسرے پر رکھے ہوئے تھے ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ عباد ابن تمیم ابن زید ابن عاصم تابعی ہیں،انصاری مازنی ہیں،ان کے چچا کا نام عبدالله ابن زید انصاری ہے وہ غزوہ حرہ میں ۶۳ھ تریسٹھ میں شہید ہوئے۔
۲؎ قدم کا قدم پر رکھنا یہ ہے کہ دونوں پاؤں پورے پھیلے ہوئے ہیں اور قدم قدم پر رکھا ہو اس صورت میں ستر نہیں کھل سکتا۔پاؤں پرپاؤں رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاؤں کھڑا ہو اور دوسرا پاؤں کھڑے ہوئے گھٹنے پر رکھا ہو۔پہلی صورت جائز یہ دوسری صورت ممنوع لہذا احادیث میں تعارض نہیں پاؤں پر پاؤں رکھنے میں ستر کھل جانے کا اندیشہ ہے خصوصًا جب کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع