30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی مجلس میں پہنچ کر دو آدمیوں کو جو ملے ہوئے بیٹھے ہوں ان کو چیر کر بیچ میں بیٹھ جانا ممنوع ہے۔ممکن ہے کہ ان دونوں کی آپس میں محبت ہو ان کی جدائی ناگوار ہو،یہ حکم ہر مجلس کے لیے ہے خواہ مسجد میں ہوں یا اور جگہ جب ان کی اجازت سے درمیان میں بیٹھے گا تو انہیں اس سے رنج نہ ہوگا جیساکہ ظاہر ہے۔
|
4704 -[10] وَعَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بإِذنهما» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوشخصوں کے درمیان ان کی اجات کے بغیر نہ بیٹھو ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس کی وجہ وہ ہی ہے جو ابھی عرض کی گئی۔خیال رہے کہ رجل فرمانا اس لیے ہے کہ عورتیں مردوں کے حکم میں ہیں ان پر احکام شرعیہ مردوں کی طرح جاری ہوتے ہیں،رب تعالیٰ نے نماز روزے وغیرہ کے احکام مردوں کو ہی دیئے مگر عورتوں پر بھی یہ عبادات فرض ہیں لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد تو یہ حرکت نہ کریں عورتیں کر لیا کریں۔
|
4705 -[11] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّى نَرَاهُ قد دخل بعض بيُوت أَزوَاجه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھتے ہم سے باتیں کرتے تھے پھر جب کھڑے ہوتے تو ہم سیدھے کھڑے ہوجاتے ۱؎ حتی کہ ہم دیکھ لیتے کہ حضور اپنی بعض بیویوں کے گھروں میں تشریف لے گئے ۲؎ |
۱؎ حضور کی تعظیم کے لیے کیونکہ یہ بات بہت بری محسوس ہوتی ہے کہ مخدوم کھڑا ہو اور خدام بیٹھے یا لیٹے ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم کے جانے پربھی قیام تعظیمی سنت ہے یہ وہ حدیث ہے جس سے قیام تعظیمی کا ثبوت ہے،ممانعت قیام کی احادیث کا مطلب ہم پہلے عرض کرچکے ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں وہاں کا مطالعہ فرماؤ۔
۲؎ اس میں تعظیم کی انتہا ہے کہ جب تک حضور اپنے کسی گھر میں داخل نہ ہوجاتے وہ حضرات کھڑے ہی رہتے تاکہ ہم حضور کے سامنے جب کہ آپ کھڑے ہوں بیٹھے ہوئے نظر نہ آئیں،اللہ تعالیٰ ایسا ادب نصیب کرے۔
|
4706 -[12] وَعَن وَاثِلَة بن الخطابِ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ قَاعِدٌ فَتَزَحْزَحَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَكَانِ سَعَةً. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ لِلْمُسْلِمِ لَحَقًّا إِذَا رَآهُ أَخُوهُ أَنْ يَتَزَحْزَحَ لَهُ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے واثلہ ابن خطاب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا حالانکہ آپ مسجد میں بیٹھے تھے تو اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جنبش کی۲؎ تو اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ جگہ میں کافی گنجائش ہے۳؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کا حق ہے کہ جب اسے اس کا بھائی دیکھے تو اس کے لیے کچھ جنبش کرے ۴؎(بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع