30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4701 -[7] وَعَن سعيد بن أبي الْحسن قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بكرَة فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سعید ابن ابی الحسن سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک گواہی میں ابوبکرہ ۲؎ آئے تو ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا آپ نے وہاں بیٹھنے سے انکار فرمایا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۳؎ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی اپنے ہاتھ اس کے کپڑے سے پونچھے جسے یہ پہنے ہوئے نہیں۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ سعید ابن ابی الحسن تابعی ہیں،خواجہ حسن بصری کے بھائی ہیں،آپ کے والد کا نام یسار ہے،کنیت ابوالحسن، یہ سعید اپنے بھائی حسن بصری سے ایک سال پہلے فوت ہوئے یعنی ۱۰۹ھ ایک سو نو ہجری میں حضرت عبداللہ ابن عباس ،ابوہریرہ وغیرہ سے آپ کی ملاقات ہے،آپ کے بھائی قتادہ نے آپ سے احادیث روایت کیں۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ حضرت ابوبکرہ کا نام نقیع ابن حارث ہے،ثقفی ہیں،مشہور صحابی،آپ کے حالات و وفات پہلے بیان ہوچکے۔
۳؎ یہ آپ کی انتہائی تواضع ہے وہ شخص آپ کے لیے خود جگہ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا آپ کو وہاں بیٹھنا بالکل جائز تھا۔کسی کو اس کی جگہ سے بلاضرورت ہٹاکر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے جب کہ وہ جگہ اس کی ہو اپنی نہ ہو،چونکہ یہاں اس کا یہ عمل اس ممنوع چیز کے مشابہ تھا لہذا آپ وہاں نہ بیٹھے یا شاید اس شخص کو کسی اور نے اٹھایا ہوگا تاکہ آپ وہاں بیٹھ جائیں اس لیے آپ نہ بیٹھے۔(مرقات)
۴؎ یعنی اپنے گیلے یا کھانے وغیرہ سے لتھڑے ہوئے ہاتھ دوسرے کے کپڑے سے بغیر اس کی اجازت نہ پونچھو جب کہ تم نے یہ کپڑا اسے نہ پہنایا ہو لہذا اپنے بیٹے اپنے غلام کے کپڑے سے ہاتھ پونچھنا جب کہ وہ کپڑا خود اس ہی نے پہنایا ہو جائز ہے، یوں اگر وہ شخص ہمارے اس عمل سے ناراض نہ ہو تو بھی جائز ہے۔(مرقات و اشعہ)
|
4702 -[8] وَعَن أبي الدرداءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جلس جلسنا حوله فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَهُ أَوْبَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے گرد بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے واپس ہونا چاہتے تو آپ اپناجوتا شریف یا بعض چیز جو آپ پر ہوتی اتار جاتے ۱؎ تو یہ آپ کے ساتھی پہچان جاتے تو وہ حضرات بیٹھے رہتے ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگر حضور انور ہم لوگوں کے پاس سے اپنے گھر میں تشریف لے جاتے اور ابھی واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو اپنا جوتہ شریف وہاں ہی چھوڑ جاتے ننگے پاؤں جاتے یا کوئی اور کپڑا وغیرہ چھوڑ دیتے تاکہ ہم سمجھ جاویں کہ حضور ابھی آتے ہیں۔
۲؎ اس انتظار میں کہ حضور ابھی آتے ہیں وہ اپنے اپنے گھروں کو نہ جاتے۔
|
4703 -[9] وَعَن عبد الله بن عَمْرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان علیحدگی کرے بغیر ان کی اجازت سے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع