دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۲؎  یہ ہمیشہ کا عمل نہ تھا بلکہ اکثر قیام کرتے تھے کبھی نہ کرتے تھے یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام حضور کو دور سے تشریف لاتا دیکھ کر پہلے سے ہی کھڑے نہ ہوجاتے اور کھڑے ہوکر حضور کا انتظار نہ کرتے تھے بلکہ جب آپ ہمارے پاس تشریف لے آتے تھے تب ہم کھڑے ہوتے تھے لہذا یہ حدیث اس آنے والی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قیام کرتے تھے۔

4699 -[5]

وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے سروقد کھڑے رہیں ۱؎ تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)

۱؎ اس حدیث نے ممانعت قیام کی تمام حدیثوں کی شرح کردی کہ جو کوئی اپنے لیے قیام تعظیمی کرانا چاہے اس کے لیے نہ کھڑے ہو یا اس طرح کھڑے ہونا ممنوع ہے کہ مخدوم بیٹھا ہوا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں دست بستہ اور یہ عمل تکبروغرور کے لیے ہو ضرورۃً نہ ہو تب سخت ممنوع ہے۔عالم دین کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا یوں ہی عادل حاکم کے روبرو کھڑا ہونا خصوصًا مقدمہ والوں کا یوں استاذ کے سامنے شاگردوں کا کھڑا ہونا مستحب ہے اگرچہ یہ حضرات بیٹھے ہوئے ہوں اور شاگردوں وغیرہ کھڑے ہوں۔(مرقات)ہاں مخدومین کا تکبرًا انہیں کھڑا کرنا خود بیٹھے رہنا یہ ممنوع ہے یہ ہی یہاں مراد ہے۔(اشعۃ اللمعات)

۲؎  یعنی اس قسم کی تعظیم کو پسند کرنا یا لوگوں کو ایسی تعظیم کا اپنے لیے حکم دینا جہنمی ہونے کا سبب ہے اور تکبر جہنم کا راستہ ہے۔

4700 -[6]

وَعَن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى عَصًا فَقُمْنَا فَقَالَ: «لَا تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضهَا بَعْضًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی پر ٹیک لگائے تشریف لائے ۱؎ ہم کھڑے ہوگئے تو فرمایا ایسے نہ کھڑے ہو جیسے عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں ان کے بعض بعض کی تعظیم کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد)

ا؎ غالبًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس لیے عصا پر ٹیک لگائے تشریف لائے۔

۲؎  یعنی تمہارا یہ قیام تو ٹھیک ہے مگر عجمیوں کا سا قیام نہ کرنا کہ مخدوم بیٹھا ہو خدام سامنے دست بستہ سر و قد کھڑے ہوئے ہوں اور مخدوم اس تعظیم کی خواہش بھی کرتا ہوکہ ایسا قیام ممنوع ہے یہ قیود خیال میں رہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں قیام سے مراد وقوف ہے یعنی کسی کے لیے تعظیمًا کھڑا رہنا۔

4701 -[7]

وَعَن سعيد بن أبي الْحسن قَالَ: جَاءَنَا أَبُو بكرَة فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَقَالَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سعید ابن ابی الحسن سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک گواہی میں ابوبکرہ ۲؎ آئے تو ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا آپ نے وہاں بیٹھنے سے انکار فرمایا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۳؎  اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی اپنے ہاتھ اس کے کپڑے سے پونچھے جسے یہ پہنے ہوئے نہیں۳؎(ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن