30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا تاکہ لوگ انہیں سواری سے اتار لاویں مگر یہ درست نہیں ورنہ صرف ایک دو آدمیوں کو کہا جاتا اور بجائے سیدکم کے مریضکم ارشاد ہوتا تمام انصار کو قیام کا حکم نہ ہوتا۔جمہور علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا ہے بزرگوں کے لیے قیام تعظیمی مستحب ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عکرمہ ابن ابوجہل اور عدی ابن حاتم کی آمد پر ان کی عزت افزائی کے لیے قیام فرمایا،حضرت فاطمہ زہرا حضور انور کی تشریف آوری پر تعظیم قیام کرتی تھیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قیام تعظیمی بارہا کیا ہے،دیکھو ۔ (مرقات،اشعہ اور لمعات)ہم باب الاسراء میں اس پر بحث کرچکے ہیں اور ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں قیام تعظیمی کی مکمل بحث کردی گئی ہے وہاں مطالعہ کرو۔
|
4696 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ کوئی شخص کسی شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے ۱؎ لیکن یہ کہہ دے کہ جگہ وسیع کرو اور جگہ دو ۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے،ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا تو اسے اٹھا دینا جائز ہے جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقررہ جگہ بیٹھ جاوے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھاسکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔
۲؎ یعنی اگر تھوڑے آدمی بہت سی جگہ گھیرے بیٹھے ہیں تو یہ عام خطاب سے کہے کہ بھائیو ذرا گنجائش کرو ذرا مل کر بیٹھو تاکہ میں بھی جگہ حاصل کرسکوں۔
|
4697 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنی جگہ سے اٹھ جاوے پھر وہاں آئے تو اس جگہ کا وہ ہی حقدار ہے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یہ اس صورت میں ہے کہ جانے والا اپنی جگہ کوئی نشانی رکھ گیا ہو جس سے پتہ لگے کہ وہ لوٹ کر آوے گا یا کوئی اور علامت ہو۔
|
4698 -[4] عَن أنس بن مَالك قَالَ: لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ کوئی شخص صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہ تھا ۱؎ یہ حضرات جب حضور کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ حضور کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان مال،اولاد،ماں باپ سب سے زیادہ پیارے تھے یہ کمال ایمان کی علامت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع