30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ حضرت براء ابن عازب مشہور صحابی ہیں،انصاری حارثی ہیں،آخر میں کوفہ میں قیام رہا، ۲۴ھ میں کئی علاقہ کے فاتح آپ ہیں،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،کوفہ میں ہی وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔اس روایت سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کے قریب ہی خود بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئیں تھیں۔
۲؎ کیونکہ اس زمانہ میں زمین مدینہ بڑی وبا والی تھی اس لیے اسے یثرب کہتے ہیں جو مہاجر وہاں پہنچتے تھے انہیں بخار آجاتا تھا اس سلسلہ میں حضرت ام المؤمنین کو بھی بخار آگیا،پھر حضور کے دم قدم سے وہ جگہ ایسی صحت بخش بنادی گئی کہ وہاں کی خاک بجائے خاک وباء کے خاک شفا بن گئی،حضور فرماتے ہیں تربۃ ارضناریقۃ بعضنا یشفی سقیمنا۔
۳؎ معلوم ہوا کہ باپ اپنی جوان بچی کا رخسار چوم سکتا ہے یہ چومنا رحمت کا ہے سنت سے ثابت ہے،حضور انور نے اولاد کے رخسار چومے ہیں۔بنیۃ تصیغر بنت کی بمعنی چھوٹی سی لڑکی اسے اردو میں کہتے ہیں بنیا یہ تصغیر پیار کے لیے ہے۔
|
4691 -[15] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّهُمْ لَمِنْ ريحَان الله» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا ۱؎ تو آپ نے اسے چوما پھر فرمایا کہ یقینًا یہ بخیل اور بزدل بنانے والے ہیں۲؎ اور یہ الله کے اعلیٰ رزق سے ہیں۳؎(شرح السنہ) |
۱؎ حضور انور کا اپنا بچہ حضرت حسن یا حسین یا کسی اور کا بچہ۔
۲؎ کہ اولاد کی وجہ سے ماں باپ مال کنجوسی سے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اولاد ہی کی وجہ سے باپ جنگ میں جانے سے کتراتا ہے کہ میرے بچے میرے بعد کہاں جائیں گے کیا کریں گے یہ عام لوگوں کے عام حالات کا بیان ہے۔
۳؎ ریحان خوشبودار سبزے کو بھی کہتے ہیں اور طیب و اعلٰی روزی کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں، ماں باپ انہیں چومتے سونگھتے ہیں لہذا یہ الله کی عطا کی ہوئی بہترین خوشبو ہیں یہ ماں باپ کے دل کا پھل ہیں لہذا یہ بہترین رزق ہیں۔ (مرقات،اشعہ)
|
4692 -[16] عَن يعلى قَالَ: إِنَّ حسنا وحُسيناً رَضِي الله عَنْهُم اسْتَبَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مجبنَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے یعلیٰ سے ۱؎ کہ حسن اور حسین رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس دوڑتے ہوئے آئے تو حضور نے انہیں اپنے سے چمٹا لیا اور فرمایا کہ اولاد بخیل اور بزدل بنا دینے والی ہے۲؎ (احمد) |
۱؎ یہاں یعلیٰ ابن مرہ مراد نہیں بلکہ یعلیٰ ابن امیہ مراد ہیں جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور غزوہ حنین، طائف،تبوک میں حاضر ہوئے،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ رہے اسی میں شہید ہوئے رضی الله عنہ،آپ سے بہت حضرات نے روایات لیں۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع