30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پا بوسی کو سجدہ سمجھنا جہالت ہے،سجدہ میں سات اعضاء زمین پر لگنا اور سجدہ کی نیت ہونا ضروری ہے قدم بوسی میں یہ کچھ نہیں ہوتا۔
|
4689 -[13] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہیئت عادت صورت میں ۱؎ ایک روایت میں ہے اور بات و گفتگو میں پورا پور مشابہہ ہو بمقابلہ جناب فاطمہ کے آپ جب حضور کی خدمت میں آتیں تو حضور ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کا ہاتھ پکڑتے انہیں چومتے انہیں اپنی مجلس میں بٹھاتے ۲؎ اور جب حضور انور ان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے لیے کھڑی ہوجاتیں حضور کا ہاتھ پکڑتیں اسے بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بیٹھالیتیں۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ سمت کے معنی ہیں ہیئت یعنی رفتار گفتار،کردار اور چال ڈھال،ھدیا بمعنی عادت دلُّ لام کے شد سے بمعنی صورت یعنی حضرت خاتون جنت حضور صلی الله علیہ وسلم کی جیتی جاگتی چلتی پھرتی بولتی تصویر تھیں بلکہ تصویر صرف شکل دکھاتی ہے آپ سرکار تو سیرت و خصلت میں بھی حضور کا نمونہ تھی قدرت نے ایک سانچہ میں یہ دو صورتیں ڈھالی تھیں ایک ہمارے مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی دوسری حضور فاطمہ زہرہ کی،ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
رسول الله کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیانظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا
نبی کی لاڈلی بانو ولی کی ماں شہیدوں کی یہاں جلوہ نبوت کا ولایت کا شہادت کا
۲؎ حضرت فاطمہ زہرا کے لیے حضور کا کھڑا ہونا تعظیم کا نہ تھا کہ تعظیم اپنے سے بڑے کی ہوتی ہے بلکہ خوشی کا قیام تھا ایسے ہی یہ بوسہ محبت و پیار کا تھا۔ساری اولاد میں حضور کو جناب فاطمہ زہرا بہت پیاری تھیں کہ سب سے چھوٹی تھیں اور آپ کی والدہ جناب خدیجہ آپ کے لڑکپن میں وفات پا گئی تھیں تو آپ حضور کی گود میں حضور کی آغوش میں پلیں رضی الله تعالی عنہا۔
۳؎ حضرت خاتون جنت کا یہ قیام وغیرہ حضور کی تعظیم کے لیے تھا جس میں محبت و جوش کی چاشنی تھی۔معلوم ہوا کہ تعظیم کے لیے قیام سنت فاطمہ زہرا ہے اور خوشی کے لیے قیام سنت رسول الله صلی الله علیہ و سلم۔ معلوم ہوا کہ جوان بیٹی کو چومنا اور جوان بیٹی کا اپنے باپ کو چومنا جائز ہے۔
|
4690 -[14] وَعَن البراءِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أولَ مَا قدمَ المدينةَ فَإِذا عَائِشَة مُضْطَجِعَة قد أصابتها حُمَّى فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں اولین آمد کے موقعہ پر حضرت ابوبکر کے ساتھ گیا ۱؎ تو آپ کی دختر جناب عائشہ لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آگیا تھا۲؎ تو ان کے پاس ابوبکر آئے بولے اے بچی تو کیسی ہے اور انکا رخسا چوما ۳؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع