دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۴؎  آج کوئی خاص وقت تھا دریائے کرم جوش میں تھا مجھ سے بجائے مصافحہ کے معانقہ فرمایا ۔معانقہ مصافحہ سے اس لیے  بہترہوا کہ مصافحہ میں صرف ہاتھ ملتے ہیں  اور معانقہ میں گلا ، سینہ وغیرہ سب ہی مل گئے۔فیضان جو معانقہ میں ہوا  وہ مصافحہ کے فیضان سے زیادہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معانقہ صرف سفر سے آنے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ حالت میں بھی ہوسکتا ہے۔(اشعہ)

4684 -[8]

وَعَن عكرمةَ بن أبي جهلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عکرمہ ابن ابوجہل سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس دن میں آپ کے پاس آیا ۲؎ خوش آمدید مہاجر سوار۔ (ترمذی)

۱؎ ابوجہل کا نام عمرو ابن ہشام قرشی مخزومی ہے،لوگ اسے ابوالحکم کہتے تھے۔حضور نے اس کا نام ابوجہل رکھا یعنی جہالت والا،یہ اس امت کا فرعون ہے،اس کا فرزند عکرمہ بھی حضور کے سخت تر دشمن تھے،فتح مکہ کے دن یہ یمن بھاگ گئے ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث اولًا حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ایمان لائیں،پھر اپنے خاوند کے لیے امن لے کر یمن سے حضور اقدس کی خدمت میں لائیں،جب مکہ آئے تو حضور انور ان کے لیے کھڑے ہوگئے انہیں گلے لگایا اور یہ فرمایا۔خیال رہے کہ انہیں مہاجر کہنا اس معنی میں سے ہے کہ کفر یا دار کفر سے اسلام یا دار اسلام کی طرف انہوں نے ہجرت کی،عکرمہ کا ایمان      ۸ھ؁  ہجری میں ہوا اور آپ جنگ یرموک میں شہید ہوئے یعنی خلافت فاروقی میں۔حضور نے حضرت ام سلمہ سے فرمایا تھا کہ میں نے ابوجہل کی ایک شاخ جنت میں دیکھی ہے جب عکرمہ ایمان لائے تو فرمایا اے ام سلمہ یہ ہے ابوجہل کی جنتی شاخ،آپ کا ایمان نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا ہوا،آپ جب قرآن مجید کھولتے تو کہتے اے میرے رب کے فرمان عالی شان یہ کہہ کر اکثر بے ہوش ہوجاتے تھے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات کے حاشیہ میں ہے کہ آپ یمن جانے کے لیے جدہ پہنچ گئے تھے کشتی میں سوار ہوگئے تھے کہ آپ کی بیوی پہنچ گئی اور آپ کو اپنے دوپٹہ سے اشارہ کیا آپ کشتی سے اتر آئے آپ کو حضور کی امان دہی کی خبر دی وہ بولے کہ میں امان کے لائق ہی نہیں ہوں میں بڑا مجرم ہوں،وہ بولیں کہ حضور کی رحمت تمہارے قصوروں سے زیادہ ہے اس پر وہ آئے اور یہ واقعہ پیش آیا۔(حاشیہ اشعہ)

۲؎  حضور انور نے انہیں گلے لگا کر یہ فرمایا یعنی تم اب دارالکفر سے دارالسلام کی طرف آئے عکرمہ یہ کرم کریمانہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔

4685 -[9]

وَعَن أُسَيدِ بن حُضَيرٍ-رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ-قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ:أَصْبِرْنِي.قَالَ:«أَصْطَبِرُ». قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رسولَ الله. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت اسید ابن حضیر سے جو انصاری آدمی ہیں ۱؎ فرمایا جب کہ وہ قوم سے بات چیت کر رہے تھے ان کی طبیعت میں مذاق تھا ۲؎ جب کہ وہ لوگوں کو ہنسا رہے تھے تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں چھڑی چبھودی ۳؎ وہ بولے مجھے قصاص دیجئے حضور نے فرمایا قصاص لے لو عرض کیا کہ آپ پر قمیض ہے اور مجھ پر نہیں تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی قمیض اٹھا دی۴؎  وہ حضور کو لپٹ گئے اور آپ کی کوکھ شریف چومنے لگے پھر بولے یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں نے یہ چاہا تھا ۵؎(ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن