30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی مصافحہ کرتے وقت دونوں صاحب پہلے تو الله کی حمد اس کا شکر کریں کہ اس نے ان کو اسلام کی برکت سے بھائی بھائی بنا دیا پھر ہرشخص دونوں کے لیے دعائے مغفرت کرے کہ کہے یغفر الله لنا ولکم،بعض لوگ اس وقت درود شریف پڑھتے ہیں یہ بھی اچھا ہے کہ حضور کی سنت ادا کرتے وقت حضور پر درود شریف پڑھیں جن کے صدقہ میں یہ سنت ملی۔
|
4680 -[4] وَعَن أنس قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: «لَا» . قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: «لَا» . قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَ يُصَافِحُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول الله ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے فرمایا نہیں ۱؎ کہا کیا اس سے لپٹ جاوے اور اسے چومے فرمایا نہیں ۲؎ عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اور اس سے مصافحہ کرے فرمایا ہاں۳؎(ترمذی) |
۱؎ کیونکہ جھکنا رکوع ہے اور غیر خدا کو جیسے سجدہ کرنا حرام ہے ایسے ہی رکوع کرنا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے جھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے۔
۲؎ لپٹنے اور چومنے کی ممانعت کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں: ہر ایک سے معانقہ کرنا،ہر ایک کے ہاتھ پاؤں چومنا منع ہے،خاص بزرگوں کی دست و پا بوسی اور خاص پیاروں کو گلے لگانا جائز ہے یا دنیاداروں مالداروں سے خوشامد کے لیے لپٹنا،ان کے ہاتھ پاؤں چومنا درست نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں معانقہ اور دست و پا بوسی کا ثبوت ہے،حضور نے بعض صحابہ سے معانقہ کیا ہے اور صحابہ نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے ہیں۔(مرقات،لمعات،اشعہ)
۳؎ یعنی مصافحہ کرنا ہر مسلمان سے سنت ہے بوقت ملاقات مصافحہ کرے بوقتِ وداع نہ کرے کہ وداع کے وقت مصافحہ کرنے سے محبت گھٹتی ہے۔
|
4681 -[5] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ عَلَى يَدِهِ فَيَسْأَلَهُ:كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَضَعفه |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار کی پوری مزاج پرسی یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھے پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے ۱؎ اور تمہاری آپس کی پوری تحیت مصافحہ ہے ۲؎ (احمد،ترمذی)اور ترمذی نے اسے ضعیف کہا۔ |
۱؎ یعنی جب کوئی شخص کسی بیمار کی مزاج پرسی کرنے جاوے تو اپنا ہاتھ اس کے سر یا ہاتھ پر رکھے پھر زبان سے یہ کہے اس سے بیمار کو تسلی ہوتی ہے مگر بہت دیر تک ہاتھ نہ رکھے رہے یہ ہاتھ رکھنا اظہار محبت کے لیے ہے۔
۲؎ بوقت ملاقات صرف سلام کرنا ادنی درجہ ہے اور معانقہ کرنا انتہائی حالت ہے،ہروقت معانقہ تکلیف کا باعث ہے،درمیانی حالت یہ ہے کہ بوقت ملاقات سلام بھی کرے مصافحہ بھی اور درمیانی حالت ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔
|
4682 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ البابَ فقامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ زید ابن حارثہ مدینہ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرے گھر میں تھے ۱؎ وہ حضور کے پاس آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی طرف برہنہ چلے اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے۲؎ بخدا میں نے آپ کو برہنہ دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۳؎ تو حضور نے انہیں گلے لگالیا انہیں چوما۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع