دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

باب المصافحۃ و المعانقۃ

مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  مصافحہ بنا ہے صفح سے بمعنی کشادگی و چوڑائی اس سے دروازے کے تختوں کو صفائح الباب کہتے ہیں اور تلوار کی چوڑائی کو صفح السیف کہتے ہیں۔مصافحہ کے معنی ہیں ہاتھ کی چوڑائی یعنی ہتھیلی کو دوسرے کی ہتھیلی سے ملانا،معانقہ بنا ہے عنق سے بمعنی گردن اور گلا،معانقہ کے معنی ہیں کسی کو گلے لگانا۔مصافحہ معانقہ کے متعلق چند مسائل یاد رکھو:

(۱)مصافحہ دونوں ہاتھوں سے چاہیے صرف ایک ہاتھ سے نہ کرے (۲)مصافحہ کرتے وقت ہاتھوں کوہلانا چاہیے(۳)نماز جمعہ یا نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنا اگرچہ سنت نہیں مگر درست ہے بلکہ اس کی اصل سنت سے ثابت ہے(۴)اجنبی جوان عورت سے مرد کو مصافحہ کرنا حرام ہے (۵)اپنی محرم یا بہت بوڑھی عورت سے مصافحہ جائز ہے،حضرت ابوبکر صدیق اپنے زمانہ خلافت میں اپنی دودھ کی ماں سے مصافحہ کرتے تھے،حضرت عبدالله ابن زبیر مکہ معظمہ میں ایک بوڑھی عورت کی اپنے ہاتھ سے خدمت کرتے تھے(۶)خوبصورت امرد لڑکے سے مصافحہ کرنا جائز نہیں(۷)علماء مشائخ کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے،حضرات صحابہ نے حضور کے پاؤں چومے ہیں(۸)جو شخص اپنے کو لوگوں سے چوموائے اور چومنے کے لیے کہے اشارۃً یا صراحۃً اس کے ہاتھ چومنا منع ہے(۹)مصافحہ کرکے اپنے ہاتھ چومنا منع ہے(۱۰)بچوں کو چومنا جائز ہے(۱۱)ننگے بدن معانقہ کرنا حرام ہے،ہاں کپڑے پہنے ہوئے معانقہ کرنا جائز ہے مگر مرد مرد سے معانقہ کریں،عورتیں عورتوں سے،مرد عورت سے اورامرد لڑکوں سے معانقہ نہ کریں(۱۲)اپنی اولاد کا سر چومنا جائز ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم جناب فاطمہ زہرا کو چومتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں ان کے جسم سے جنت کی خوشبو پاتا ہوں،یہ تمام مسائل اشعۃ اللمعات میں ہیں(۱۳)کسی کو سجدہ کرنا،اس کے آگے کی زمین چومنا حرام ہے،یوں ہی سلام میں تاحد رکوع جھکنا حرام ہیں۔

4677 -[1]

عَن قتادةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نعم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس سے کہا کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ مروج تھا فرمایا ہاں ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی بوقت ملاقات مصافحہ کرنا سنت صحابہ ہے بلکہ سنت رسول الله ہے صلی الله علیہ وسلم ۔

4678 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَثَمَّ لُكَعُ» فِي «بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» إِنْ شَاءَ تَعَالَى وَذَكَرَ حَدِيثَ أمِّ هَانِئ فِي «بَاب الْأمان»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسن ابن علی کو چوما ۱؎ اور آپ کے پاس اقرع ابن حابس تھے ۲؎ وہ بولے کہ میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہ چوما۳؎  تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا وہ رحم نہیں کیا جاتا ۴؎ (مسلم بخاری)

 

ہم جناب ابوہریرہ کی حدیث اثم لکع مناقب اہل بیت نبی صلی الله علیہ وسلم کے باب میں ذکر کریں گے ان شاءالله اور ام ہانی کی حدیث باب الامان میں ذکر کردی گئی ۵؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن