30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ جناب عبداللہ یعنی حضرت جابر کے والد مقروض تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوگئے،حضرت جابر اس کے متعلق دعا کرانے یا قرض خواہوں سے سفارش کے لیے حاضر بارگاہ ہوئے تھے،یہ حدیث ان شاءالله باب المعجزات میں آوے گی۔
۲؎ معلوم ہوا کہ آنے والا پوچھنے پر اپنا نام لے صرف میں نہ کہہ دے کہ میں سب ہیں،اس سے گھر والے کو پہچان نہیں ہوتی کہ کون اجازت مانگ رہا ہے۔
|
4670 -[4] وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ. فَقَالَ: «أَبَا هِرٍّ الْحَقْ بِأَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَيَّ» فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہوا تو آپ نے پیالہ میں دودھ پایا ۱؎ فرمایا ابوہریرہ صفہ والوں کے پاس جاؤ انہیں میرے پاس بلا لاؤ میں ان کے پاس گیا انہیں بلایا تو وہ آگئے انہوں نے اذن مانگا انہیں اذن دیا تو وہ اندر آئے ۲؎ (بخاری) |
۱؎ غالبًا یہ واقعہ حضور کے اپنے گھر شریف کا ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت سعد ابن عبادہ کے گھر کا واقعہ ہے کہ حضور نے ان کے گھر یہ دودھ پایا تھا۔(مرقات)
۲؎ ان بزرگوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بلایا تھا مگر چونکہ وہ حضرات دیر سے آئے تھے اس لیے داخلہ کی اجازت مانگی ورنہ اگر بلانے والے کے ساتھ فورًا آجاوے اور بلانے والا زنان خانہ میں نہ ہو تو داخلہ کی اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں یا یہ اجازت لینا استحبابًا تھا نہ کہ وجوبًا لہذا یہ حدیث آئندہ حدیث کے خلاف نہیں۔
|
4671 -[5] عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُميةَ بعث بِلَبن أَو جدابة وَضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے کلدہ ابن حنبل سے کہ صفوان ابن امیہ نے ۱؎ دودھ یا ہرنی کا بچہ اور ککڑیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۲؎ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے اعلیٰ حصہ میں تھے ۳؎ فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو نہ میں نے سلام کیا نہ اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوٹ جاؤ پھر کہو السلام علیکم پھر اندر آؤ ۴؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ کلدہ ابن امیہ ماں شریکے بھائی ہیں صفوان ابن امیہ کے،صفوان قرشی ہیں،فتح مکہ کے بعد اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے ہیں، ان کا باپ امیہ ابن خلف بدر کے دن دوسرے مشرکین کے ساتھ مارا گیا،یہ مکہ معظمہ میں فوت ہوئے وہاں ہی دفن ہوئے، صفوان بڑے فصیح خطیب تھے۔(مرقات)
۲؎ جدایہ ہرنی کے شش ماہیہ بچے کو کہتے ہیں اور جدی بکری کے شش ماہیہ بچے کو کہا جاتا ہے، ضغابیس جمع ہے ضغیوس کی بمعنی چھوٹی ککڑی جسے پنجابی میں گلہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گلے بہت پسند تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع