30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ استیذان بناہے اذن سے،اذن کے معنی علم بھی ہیں اور اباحت و اجازت بھی۔استیذان کے معنی ہیں اجازت داخلہ حاصل کرنا یا یہ علم حاصل کرنا کہ مجھے اس جگہ جانا درست ہے،کسی کے گھر میں جاتے وقت اس سے اجازت مانگنا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ کہے السلام علیکم کیا میں آسکتا ہوں یہ سلام بھی استیذان کا ہے۔(اشعۃ،مرقات،لمعات)وہ جو آتا ہے کہ السلام قبل الکلام وہاں سلام سے مراد سلام تحیۃ ہے جو ملاقات کے وقت ہوتا ہے یہ سلام استیذان ہے۔
|
4667 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَتَانَا أَبُو مُوسَى قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ. فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلم تردَّ عليَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» . فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَقُمْتُ مَعَهُ فذهبتُ إِلى عمرَ فشهِدتُ |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ابوموسیٰ آئے بولے کہ حضرت عمر نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ان کے پاس آؤں تو میں ان کے دروازے پر آیا میں نے تین بار سلام کیا ۱؎ انہوں نے جواب نہ دیا تو میں لوٹ گیا ۲؎ انہوں نے فرمایا کہ تم کو ہمارے پاس آنے سے کس نے روکا ۳؎ میں نے کہا کہ میں آیا تھا آپ کے دروازے پر تین بار سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا ۴؎ تو میں لوٹ گیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے پھر اسے اجازت نہ دی جاوے لوٹ جاوے ۵؎ حضرت عمر نے فرمایا کہ اس پر گواہی قائم کرو ۶؎ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ اٹھا اور حضرت عمر کی طرف گیا پھر میں نے گواہی دی ۷؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی جب میں حضرت عمر کے دروازے پر آیا تو میں نے تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر تین بار کہا السلام علیکم یہ سلام استیذان ہے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ داخلہ کی اجازت مانگنے کے لیے صرف سلام کرنا بھی کافی ہے اور یہ بھی کہ السلام علیکم کیا آجاؤں،چونکہ حضرت عمر مکان میں تھے جو زنانہ تھا اس لیے اجازت مانگنے کی ضرورت ہوئی اگر مردانہ میں ہوتے تو بلانا ہی کافی تھا جسے بلایا جاوے اس کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی جیساکہ آگے آوے گا۔
۲؎ دروازہ پیٹا نہیں آج آنے والے اگر اجازت نہ پائیں تو دروازہ توڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اسلامی احکام سے خبردار نہیں۔
۳؎ یا تو میرے لوٹتے ہی مجھے خادم کے ذریعہ بلوا کر یہ کہا یا جب میں کسی اور موقعہ پر حاضر ہوا تب یہ فرمایا پہلے معنی زیادہ موزوں ہے۔
۴؎ یعنی گھر سے جواب سلام نہ ملا نہ آپ نے جواب دیا نہ آپ کے اہلِ خانہ میں سے کسی نے اس لیے میں واپس گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع