30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۴؎ آدم علیہ السلام نے عرض کیا تھا کہ ان کی عمر اپنی طرف سے بڑھادے اس لیے یہ جواب دیا گیا کہ ہم تو انہیں وہ عمر دے چکے جو دینا تھی آپ کی دعا سے اس وقت اس میں زیادتی نہ فرمائیں گے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے بعد میں حضرت آدم علیہ السلام کو ان کی عمر پوری دی یعنی ایک ہزار سال اور داؤد علیہ السلام کو بھی یہ ساٹھ سال دیئے جو آدم علیہ السلام دے چکے تھے لہذا اس فرمان عالی کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت ان کی عمر میں زیادتی نہ کریں گے۔(مرقات)
۱۵؎ اس سے چند مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ الله کے مقبول بندوں کی دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں عمریں بڑھ جاتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے چالیس سال کے سو سال ہوگئی،قرآن کریم فرماتا ہے: "مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرٌ"بلکہ بعض اعمال سے عمریں بڑھ جاتی ہیں،حضور فرماتے ہیں کہ صدقہ سے عمر بڑھتی ہے۔
۱۶؎ یعنی منظور ہے اگر تم ہی اپنی عمر دے رہے ہو تو تم جانو۔معلوم ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمر معلوم تھی کہ ایک ہزار سال ہے تب ہی تو آپ اس میں سے ساٹھ سال دے رہے ہیں اگر آپ کو خبر ہی نہ ہوتی کہ میری عمر دس سال ہے یا بیس سال تو آپ ساٹھ سال کیسے دیتے۔
۱۷؎ خیال رہے کہ آپ کی یہ عمر جنت سے واپس آنے کے بعد شرو ع ہوئی تھی،اس وقت سے آپ نے گنتی شروع کی تھی ورنہ آپ جنت میں بہت دراز مدت رہے وہ مدت عمر کے حساب میں نہیں لگی۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تب اس کی عمر شروع ہوتی ہے پیٹ میں رہنے کی مدت عمر کے حساب میں نہیں لگتی اس لیے یہاں ثم اھبط ارشاد ہوا۔
۱۸؎ تقدیر کے بیان میں جو حدیث گزری ہے وہاں چالیس سال کا ذکر ہے یہاں ساٹھ کا ذکر۔بات یہ تھی کہ آدم علیہ السلام نے داؤد علیہ السلام کو پہلے چالیس دیئے پھر ساٹھ سال کردیئے یعنی بیس سال اور زیادہ حضرت ملک الموت اولًا تو جب آئے جب کہ جناب آدم کی عمر کے ساٹھ سال باقی تھے آپ نے انکار کیا پھر بیس سال بعد آئے جب چالیس سال باقی تھے تاکہ ان بیس سال میں آپ اور بھی غور کرلیں سوچ لیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاءکرام کی موت ان کی رضا سے آتی ہے وہ جب چاہتے ہیں تب انہیں وفات دی جاتی ہے،موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ ابھی موت نہیں چاہتے تو بیل کی کھال پر ہاتھ پھیریں جتنے بال آپ کے ہاتھ لگیں فی بال ایک سال۔
۱۹؎ یعنی آدم علیہ السلام یہ واقعہ ایسا بھولے کہ یاد دلانے پر بھی انہیں یاد نہ آیا عمر لینا تو یاد رہا مگر عمر دینا یاد نہ رہا۔خیال رہے کہ یہاں انکار اپنی یاد آنے کا ہے نہ کہ اصلی واقعہ کا اصل واقعہ تو بذریعہ فرشتہ کے رب تعالٰی بیان فرمارہا ہے اس کا انکار کیسے ہوسکتا ہے۔
۲۰؎ آپ سے بھول تو گندم کھانے میں ہوئی اور انکار عمر دینے کا ہوا اولاد میں ماں باپ کا اثر آتا ہے اس لیے انسانوں میں یہ مرض خصوصیت سے موجود ہیں۔
۲۱؎ معلوم ہوا کہ معاملات کا لکھ لینا ان پر گواہ بنالینا آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہی چلا آرہا ہے۔
|
4663 -[36] وَعَن أسماءَ بنت يزيدَ قَالَتْ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ ہم پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم گزرے میں چند عورتوں میں تھی تو حضور نے ہم کو سلام کیا ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع