30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یہ ساری عبارت متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی وہ ہیں جو الله رسول جانیں۔یہاں اشعۃ اللمعات میں اسی جملہ کے پانچ معنی بیان فرمائے: ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخلوق کے داہنے بائیں میں سے بایاں ضعیف و کمزور ہوتا ہے داہنا قوی،رب تعالٰی ضعف و کمزوری سے پاک ہے اس کی صفات رحمت اور صفات قہر دونوں ہیں یعنی دونوں مبارک و قوی ہیں ۔ وہ وہ عزیزوغالب ہے جسے گمراہ کرتا ہے تو حکمت سے اور جسے ہدایت دیتا ہے تو حکمت سے۔
۹؎ یہاں آدم علیہ السلام عالم شہود میں تھے دست قدرت میں عالم غیب میں بطورِ مثال تھے،خود اپنے کو دیکھ رہے تھے جیسے کوئی شخص آئینہ میں اپنے کو اور اپنے گھر بار آل و اولاد کو دیکھے جو خود گھر میں موجود ہوں،یہ مثال محض سمجھانے کے لیے ہے از آدم تاروز قیامت سارے انسان حضرت آدم کو دکھادیئے گئے اور یہ دکھانا اجمالًا نہ تھا بلکہ تفصیلًا تھا کہ آپ نے ہر ایک کو پہچان بھی لیا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔رب تعالٰی نے پہلے تو آدم علیہ السلام کو تمام عالم کی چیزیں دکھا کر انکے نام بتادیئے اس موقعہ پر صرف اولاد آدم دکھائی۔
۱۰؎ اس ہاتھ میں صالحین یعنی مؤمنین اولیاء و انبیاء ہی تھے،دوسرے دستِ قدرت میں کفار ہوں گے خبر نہیں کہ ہم کس ہاتھ میں تھے رب تعالٰی فضل کرے۔
۱۱؎ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کی تقدیر اس کی عمر اس کی پیشانی میں لکھی ہوتی ہے اس لیے اسے پیشانی کہتے ہیں یعنی پیش آنے والی چیز۔دوسرے یہ کہ یہ تحریر الله کے مقبول بندے پڑھ لیتے ہیں آدم علیہ السلام نے بغیر کسی مدرسہ میں تعلیم پائے یہ تحریر پڑھ لی۔تیسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کو سارے انسانوں کی تقدیریں ان کی عمریں معلوم تھیں یہ ہی علوم خمسہ سے ہیں پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا، آدم علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے علم کے سمندر کا قطرہ ہے۔شعر
قدرت کی تحریریں جانے امی اور تقدیریں جانے
بخشش کی تدبیریں جانے
وہ ہے رحمت والا
جن کا نام ہے محمد ان سے دوجگ ہیں اجیالا
آن کی آن میں عرش پہ جاوے پلک جھپکتے فرش پہ آوے
دوجگ کا والی کہلاوے
امت کا رکھوالا
جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہیں اجیالا
۱۲؎ غالبًا حضرت آدم علیہ السلام کی غائر نظر حضرت یوسف علیہ السلام یا حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم پر نہ پڑی ہوگی یا ادھر متوجہ نہ ہوئے ہوں گے ورنہ حضور کا حسن تمام سے زیادہ ہے۔رب کا منشاء یہ تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی عمر حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے زیادہ نہ ہو حضور کو دینے کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ کسی سے لینے کے لیے،رب تعالٰی کا منشاء یہ تھا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو جناب آدم علیہ السلام کی نگاہ میں حسین ترین دکھایا جاوے تاکہ اگلا واقعہ پیش آوے۔
۱۳؎ آدم علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ عمر ان کی پیشانی میں پڑھ ہی چکے تھے،رب تعالٰی کا یہ فرمان اس پڑھے ہوئے کی تصدیق و تائید کے لیے ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع