دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4662 -[35]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمَ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالُوا: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لَهُ اللَّهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَين عَيْنَيْهِ فَإِذا فيهم رجلٌ أضوؤهُم - أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ - قَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ وَقَدْ كَتَبْتُ لَهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ. قَالَ: ذَلِكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كَتَبَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ. قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ " قَالَ: «فَمن يؤمئذ أَمر بِالْكتاب وَالشُّهُود» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے کہا الحمدﷲ (باذن الٰہی)پھر ان سے ان کے رب نے کہا اے آدم الله تم پر رحمت کرے ۲؎ ان فرشتوں کے پاس جو جماعت بیٹھی ہے جاؤ تو کہو السلام علیکم ۳؎ چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم وہ بولے علیک السلام ورحمۃ الله ۴؎  پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹے ۵؎ تو فرمایا یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام ہے پھر ان سے الله نے فرمایا حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بندتھیں ۶؎ کہ جو لینا چاہو اختیار کرلو ۷؎ عرض کیا میں نے اپنے رب کا داہنا ہاتھ اختیار کیا میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور مبارک ہیں ۸؎  پھر رب نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی ۹؎  عرض کیا یارب یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے ۱۰؎ تو ہر انسان کی عمر اس کی آنکھوں کے درمیان لکھی تھی ۱۱؎  ان میں ایک صاحب بہت چمکدار تھے یا ان کے بہت چمک داروں سے ۱۲؎ عرض کیا یارب یہ کون ہیں فرمایا یہ تمہارے فرزند داؤد ہیں اور ان کی عمر میں نے چالیس سال لکھی ہے ۱۳؎ عرض کیا یارب ان کی عمر میں زیادتی کردے فرمایا میں نے ان کے لیے یہ ہی لکھی ہے ۱۴؎ عرض کیا یارب میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال انہیں دیئے ۱۵؎  فرمایا تم جانو اور یہ کام ۱۶؎ فرماتے ہیں پھر جتنا الله نے چاہا حضرت آدم جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے اور حضرت آدم اپنی عمر گنتے تھے ۱۷؎  پھر ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم نے ان سے کہا تم نے جلدی کی میری عمر ایک ہزار سال لکھی گئی عرض کیا ہاں لیکن آپ نے اپنے فرزند داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہیں۱۸؎ حضرت آدم نے انکار کردیا ۱۹؎  چنانچہ ان کی اولاد انکار کرتی ہے آپ بھول گئے تو اولاد بھولنے لگی۲۰؎  فرماتے ہیں کہ اس دن سے لکھنے گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ۲۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی انہیں پیدا ہوتے ہی چھینک آنا جو صحت و تندرستی کی علامت ہے الله کی رحمت اس کے فضل سے تھا اور چھینک پر الحمد للہ کہنا بھی الله کے ارادے اس کی تعلیم اس کی رحمت سے تھا انہیں کسی نے سکھایا نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ آپ علم لدنی سے عالم تھے جیسے ہمارے حضور نے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور سجدہ میں حمد الٰہی کی یہ سب رب کی تعلیم سے ہے۔

۲؎  یہ واقعہ فرشتوں کے سجدے کے بعد کا ہے لہذا اس آیت کے خلاف نہیں"فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ"۔یرحمك الله اگر دعائیہ کلام ہے تو بندوں کی تعلیم کے لیے ہے کہ اولاد چھینک کے جواب میں یہ کہا کریں جیسے قرآن کریم میں ہے"اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡم"اور اگر یہ فرمان خبر کے لیے ہے یعنی الله تعالٰی تم پر رحمت کرے گا تو مقصد ظاہر ہے۔

۳؎  یعنی اے آدم آپ ان فرشتوں کے پاس جاؤ انہیں تحیۃ و ملاقات کا سلام کرو۔معلوم ہواکہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو اگرچہ آنے والا افضل ہو اور بیٹھے ہوئے لوگ مفضول ہوں،دیکھو آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل بلکہ ان کے مسجود ہیں مگر آپ نے ہی سلام کیا۔

۴؎  فرشتوں نے جواب میں ورحمۃ الله زیادہ کیا تاکہ آئندہ کے لیے سبق ہو کہ جواب میں کچھ زیادتی کردی جایا کرے۔

۵؎  یعنی اس جگہ لوٹے جہاں پہلے رب تعالٰی سے کلام کیا تھا ورنہ رب تعالٰی کی رحمت و قدرت ہر جگہ ہے۔

۶؎  یہ جملہ متشابہات سے ہے اس کے حقیقی معنی ہماری عقل و فہم سے بالا ہیں،الله تعالٰی جسمانی ہاتھ اور مٹھی سے پاک ہے اس کے معنی یا رب تعالٰی جانے یا اس کے محبوب صلی الله علیہ و سلم۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں سے مراد صفت جمال و جلال ہیں،ان صفتوں میں مرحومین اور مردودین ایسے چھپے تھے جیسے مٹی کی چیز مٹھی میں چھپی ہوتی ہیں۔والله تعالٰی اعلم!

۷؎ یعنی ان دونوں میں سے جس کو چاہو اپنا لو اسکے اندر کے بندوں کو اپنا بنالو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن