30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4661 -[34] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جُلُوسٍ فِي الطُّرَقَاتِ إِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيلَ وَرَدَّ التَّحِيَّةَ وَغَضَّ الْبَصَرَ وَأَعَانَ عَلَى الْحُمُولَةِ» رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي جُرَيٍّ فِي «بَاب فضل الصَّدَقَة» |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے میں بھلائی نہیں ۱؎ سواء اس کے جو راستہ کو بتائے اور سلام کا جواب دے اور نگاہ نیچے رکھے اور سوارکرنے پر مدد دے ۲؎(شرح سنہ)ابوجری کی حدیث فضل کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎ |
۱؎ بلکہ راستوں میں بیٹھنا کبھی گناہوں کا سبب بن جاتا ہے اس سے اجنبی عورتوں پر نظر پڑ جاتی ہے اور بہت خرابیاں ہوجاتی ہیں،ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔
۲؎ یعنی اگر تم کو راستوں پر بیٹھنا پڑ جاوے تو یہ چار نیکیاں کرتے رہو: بھولے بھٹکے ناواقف کو راستہ بتاؤ،نگاہیں نیچے رکھو،راہ گیروں کے سلام کے جواب دو،اگر کوئی سواری پر سوار ہونے میں دشواری محسوس کرتا ہو تو اسے سوار کرادوں،یوں ہی اگر کوئی بوجھ اٹھانا چاہتا ہے مگر اسے دشواری ہورہی ہو تو اس کی گٹھڑی اس کے سر پر رکھ دو۔
۳؎ اس حدیث کے اول میں یہ تھا کہ میں نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا علیك السلام یارسول الله تو فرمایا یہ مردوں کا آپس کا سلام ہے تم یوں کہو السلام علیک۔
|
4662 -[35] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمَ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالُوا: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ لَهُ اللَّهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ؟ فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ثُمَّ بَسَطَهَا فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَين عَيْنَيْهِ فَإِذا فيهم رجلٌ أضوؤهُم - أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ - قَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ وَقَدْ كَتَبْتُ لَهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ. قَالَ: ذَلِكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ. قَالَ: أَيْ رَبِّ فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ. قَالَ: ثُمَّ سَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كَتَبَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ. قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ " قَالَ: «فَمن يؤمئذ أَمر بِالْكتاب وَالشُّهُود» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب الله نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے کہا الحمدﷲ (باذن الٰہی)پھر ان سے ان کے رب نے کہا اے آدم الله تم پر رحمت کرے ۲؎ ان فرشتوں کے پاس جو جماعت بیٹھی ہے جاؤ تو کہو السلام علیکم ۳؎ چنانچہ انہوں نے کہا السلام علیکم وہ بولے علیک السلام ورحمۃ الله ۴؎ پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹے ۵؎ تو فرمایا یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام ہے پھر ان سے الله نے فرمایا حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بندتھیں ۶؎ کہ جو لینا چاہو اختیار کرلو ۷؎ عرض کیا میں نے اپنے رب کا داہنا ہاتھ اختیار کیا میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور مبارک ہیں ۸؎ پھر رب نے ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی ۹؎ عرض کیا یارب یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے ۱۰؎ تو ہر انسان کی عمر اس کی آنکھوں کے درمیان لکھی تھی ۱۱؎ ان میں ایک صاحب بہت چمکدار تھے یا ان کے بہت چمک داروں سے ۱۲؎ عرض کیا یارب یہ کون ہیں فرمایا یہ تمہارے فرزند داؤد ہیں اور ان کی عمر میں نے چالیس سال لکھی ہے ۱۳؎ عرض کیا یارب ان کی عمر میں زیادتی کردے فرمایا میں نے ان کے لیے یہ ہی لکھی ہے ۱۴؎ عرض کیا یارب میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال انہیں دیئے ۱۵؎ فرمایا تم جانو اور یہ کام ۱۶؎ فرماتے ہیں پھر جتنا الله نے چاہا حضرت آدم جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے اور حضرت آدم اپنی عمر گنتے تھے ۱۷؎ پھر ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم نے ان سے کہا تم نے جلدی کی میری عمر ایک ہزار سال لکھی گئی عرض کیا ہاں لیکن آپ نے اپنے فرزند داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہیں۱۸؎ حضرت آدم نے انکار کردیا ۱۹؎ چنانچہ ان کی اولاد انکار کرتی ہے آپ بھول گئے تو اولاد بھولنے لگی۲۰؎ فرماتے ہیں کہ اس دن سے لکھنے گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ۲۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع