30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ سریانی زبان وہ ہے جس میں توریت شریف نازل ہوئی،یہود عمومًا یہ ہی زبان بولتے اور لکھتے تھے،سریانی زبان عبرانی کے مشابہ یا اس کی شاخ ہے۔(اشعہ)اب یہ زبانیں دنیا سے مٹ چکیں صرف ان کے نام رہ گئے کسی جگہ نہیں بولی جاتیں جیسے ہندوؤں کی سنسکرت کہ دنیا سے مٹ چکی کہیں نہیں بولی جاتی،سریانی عبرانی زبانوں کی جگہ عربی نے لے لی۔
۲؎ یعنی ہم یہود کو تبلیغ کرنے کے لیے انہیں خطوط لکھنا بھی چاہتے ہیں اور ان کے جوابات ملاحظہ کرنا بھی چاہتے ہیں،اگرلکھنے پڑھنے کا کام یہود مدینہ سے لیا جاوے تو ان کی خیانت کا اندیشہ ہے کہ ہم کچھ لکھوائیں وہ کچھ لکھ دیں یا یہود کے خطوط میں کچھ لکھا ہو یہ کچھ پڑھ دیں لہذا یہ دونوں کام تم خود کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کی زبان سیکھنا ممنوع نہیں بلکہ ضرورت پر اس کا حکم ہے جیسے آج انگریزی یا فرنچ زبانیں ضرورت کے لیے سیکھی جاویں۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں جب حضور جانوروں،پتھروں،کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے،یہ حکم عالی امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ امراء و سلاطین اپنے ہاں دوسری قوموں کی زبان دانی رکھیں بلکہ خود اپنے لوگوں کو ان کی زبان سکھائیں زبان کوئی بری نہیں سب رب تعالٰی کی طرف سے ہیں،فرماتاہے:"وَ مِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ"۔
۳؎ صرف پندرہ دن میں سریانی زبان کما حقہ سیکھ لینا یا حضرت زید کی ذکاوت سے ہے یا حضور صلی الله علیہ وسلم کے معجزے سے۔اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہوں کے ہاں ترجمان رہنے چاہئیں۔
|
4660 -[33] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے ۱؎ پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے ۲؎ پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے۳؎ کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۴؎(ترمذی اورابوداؤد) |
۱؎ معلوم ہوا کہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو۔
۲؎ یعنی اگر وہاں بیٹھنا نہ بھی ہو صرف گزر جانا ہو جب بھی سلام کرے اور اگر بیٹھنا ہو تب بھی سلام کرے۔
۳؎ معلوم ہوا کہ راہ گیر یعنی گزرنے والا صرف ایک سلام کرے اور جو مجلس میں کچھ دیر ٹھہرے وہ دو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کا۔
۴؎ یعنی سلام لقا اور سلام وداع دونوں سنت ہونے میں برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں لہذا یہ دونوں سلام سنت ہیں اور ان کے جواب فرض۔
|
4661 -[34] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا خَيْرَ فِي جُلُوسٍ فِي الطُّرَقَاتِ إِلَّا لِمَنْ هَدَى السَّبِيلَ وَرَدَّ التَّحِيَّةَ وَغَضَّ الْبَصَرَ وَأَعَانَ عَلَى الْحُمُولَةِ» رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي جُرَيٍّ فِي «بَاب فضل الصَّدَقَة» |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے میں بھلائی نہیں ۱؎ سواء اس کے جو راستہ کو بتائے اور سلام کا جواب دے اور نگاہ نیچے رکھے اور سوارکرنے پر مدد دے ۲؎(شرح سنہ)ابوجری کی حدیث فضل کے باب میں ذکر کردی گئی۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع