30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4657 - [30] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا كتب أحدكُم كتابا فليتر بِهِ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث مُنكر |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو مٹی اس پر ڈالے کہ یہ ضرورت کو بہت پورا کرنے والی ہے ۱؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث منکر ہے ۲؎ |
۱؎ یا خط پر مٹی ڈال یا خط کو مٹی پر ڈالے اس سے حرف بھی خشک ہوجائیں گے اور ان شاءالله جس مقصد کے لیے خط لکھا گیا ہے اس مقصد میں بھی کامیابی ہوگی کہ مٹی ڈالنے میں اظہار عجز ہے اور رب تعالٰی کو عاجزی بڑی پیاری ہے۔شعر
عجز کار انبیاء و اولیاء است عاجز محبوب درگاہ خدا است
لہذا اگر کسی کو کسی چیز کی درخواست دینا ہو تو یہ عمل کرکے درخواست دے ان شاءالله کامیابی ہوگی،بعض شارحین نے مٹی ڈالنے کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر حق یہ ہے کہ اس سے ظاہری معنی ہی مراد ہیں یعنی خط پر مٹی یا ریت چھڑک دینا۔
۲؎ طبرانی نے اوسط میں یہ حدیث بروایت حضرت ابوالدرداء بروایت صحیح نقل فرمائی لہذا اس حدیث کا متن صحیح ہے اگرچہ ترمذی والی اسناد منکر ہے۔(مرقات)
|
4658 -[31] عَن زيدٍ بن ثابتٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " ضَعِ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لِلْمَآلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي إِسْنَادِهِ ضعفٌ |
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے کاتب تھا میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ قلم اپنے کان پر رکھو کہ یہ انجام کو زیادہ یاد کرانے والا ہے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے ۲؎ |
۱؎ یعنی اگر کاتب قلم کو کان سے لگائے رکھے تو اسے وہ مقصد یاد رہے گا جو اسے لکھنا ہے۔بہتر یہ ہے کہ قلم داہنے کان پر رکھے الله تعالٰی نے ہر چیز میں کوئی تاثیر رکھی ہے،قلم کان میں لگانے کی یہ تاثیر ہے کہ اسے مضمون یاد رہتا ہے۔
۲؎ یہ حدیث ابن عساکر نے بروایت حضرت انس مرفوعًا نقل فرمائی وہاں فانہ اذکرلك ہے اور جامع صغیر میں حضرت زید ابن ثابت سے مرفوعًا نقل فرمائی وہاں اذکر للمآل ہے،بہرحال یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے لہذا اس کا متن صحیح ہے۔(مرقات)
|
4659 -[32] وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ: «إِنِّي مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابٍ» . قَالَ: فَمَا مَرَّ بِيَ نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى تَعَلَّمْتُ فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی خط و کتابت سیکھ لوں اور فرمایا کہ میں کسی تحریر میں یہود پر مطمئن نہیں ۲؎ فرماتے ہیں کہ مجھ پر آدھا مہینہ نہیں گزرا حتی کہ میں نے سیکھ لی تو جب حضور یہود کو لکھتے تو میں لکھتا اور جب وہ حضور کو کچھ لکھتے تو حضور کی خدمت میں ان کا خط میں پڑھتا ۳؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع