30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4655 -[28] وَعَن غَالب قَالَ:إِنَّا لَجُلُوسٌ بِبَابِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائتيه فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ. قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ. فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد: |
روایت ہے حضرت غالب سے ۱؎ کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے تھے ۲؎ کہ ایک شخص آیا بولا مجھے میرے والد نے میرے دادا سے خبر دی فرمایا مجھے میرے باپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۳؎ کہا حضور کے پاس جاؤ تو حضور کو میرا سلام عرض کرو۴؎ فرماتے ہیں میں حضور کے پاس حاضر ہوا میں نے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام عرض کرتے ہیں تو فرمایا تم پر اور تمہارے باپ پر سلام ۵؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ غالب ابن ابی غیلان ابن خطاب القطان ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،تابعین میں سے ہیں،امام نسائی نے آپ کو ثقہ کہا، امام احمد نے ثقہ کہا،امام یحیی نے صدوق و صالح فرمایا،بڑے عالم متقی ہیں۔
۲؎ ان کی تشریف آوری کے منتظر تھے یا ان کے ساتھ بیٹھے تھے دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔
۳؎ یعنی میرے دادا کو ان کے باپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کہلا کر بھیجا تھا۔
۴؎ معلوم ہوا کہ سلام کہلا بھیجنا بھی سنت ہے اب لوگ حجاج کے ذریعہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام کہلواتے ہیں حاجی کو چاہیے کہ مواجہہ شریف میں کھڑے ہوکر یوں عرض کرے الصلوۃ والسلام علیك یارسول الله فلاں اور فلاں کی جگہ اس کا نام لے۔
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو پہنچانے والے اور بھیجنے والے دونوں کو جواب سلام میں داخل کرلینا چاہیے بلکہ پہنچانے والے کا ذکر پہلے اور بھیجنے والے کا ذکر بعد میں ہونا چاہیے کہ حضور انور نے پہلے فرمایا وعلیك اور بعد میں فرمایا علی ابیك لہذا جو زائرین مدینہ دوسروں کا سلام حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو پہنچاتے ہیں خود بھی جواب میں داخل ہوتے ہیں زہے نصیب۔
|
4656 -[29] وَعَن أبي الْعَلَاء بن الْحَضْرَمِيّ أَنَّ الْعَلَاءَ الْحَضْرَمِيَّ كَانَ عَامِلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِليه بدأَ بنفسِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوالعلاء حضرمی سے کہ ابو العلاء حضرمی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عامل تھے ۱؎ اور جب آپ ان کی طرف لکھتے تو اپنی ذات سے ابتداء کرتے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ علاءحضرمی کا نام عبدالله ہے،حضر موت کے باشندے تھے،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے بحرین کے گورنر تھے،حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم نے ان کا عہدہ بحال رکھا،چنانچہ آپ تا وفات اسی عہدے پر رہے،بعض نے فرمایا کہ آپ کی وفات عہدِ صدیقی میں ہے،مرقات نے فرمایا کہ ۱۴ چودہ ہجری میں آپ نے وفات پائی اور ابوالعلاء کا نام زید ابن عبدالله ہے،کنیت ابوالعلاء،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ابن العلاء ہے۔
۲؎ یعنی حضرت علاء جب بحرین سے حضور انور کی خدمت میں کوئی عریضہ لکھتے تو پہلے اپنا نام پھر مکتوب الیہ کا نام لکھتے تھے کیونکہ یہ ہی سنت رسول الله ہے،حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بلقیس کو خط لکھا تو لکھا "اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ"جب حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے شاہ روم کو فرمان عالی لکھا تو لکھا من محمد رسول الله الی ھرقل عظیم الروم،طریقہ خط لکھنے کا یہ چاہیے کہ اپنا نام لکھے،پھر جس کو خط لکھنا ہے اس کا نام ہو،پھر کچھ القاب،پھر سلام،پھر مقصد کی تحریر۔ خیال رہے کہ یہ چیز سلام کی تمہید ہوتی ہے اس لیے اسے باب سلام میں لائے۔
|
4657 - [30] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا كتب أحدكُم كتابا فليتر بِهِ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث مُنكر |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو مٹی اس پر ڈالے کہ یہ ضرورت کو بہت پورا کرنے والی ہے ۱؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث منکر ہے ۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع