30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ ترمذی نے اس حدیث کو صرف اس لیے ضعیف فرمایا کہ عن جدہ میں ہ ضمیر کے متعلق پتہ نہیں چلتا کہ اس کا مرجع کون ہے عمر ابن شعیب ہیں یا انکے والد،ہم شروع کتاب میں یہ بحث کرچکے ہیں۔حق یہ ہے کہ یہ اسناد قوی ہے امام سیوطی نے جامع صغیر میں یہ حدیث بروایت عبدالله ابن عمرو نقل فرمائی۔(مرقات)
|
4650 -[23] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتا: «إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے ۱؎ تو اسے سلام کرے پھر اگر ان کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر کی آڑ ہوجائے پھر اس سے ملے تو پھر اسے سلام کرے ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ بھائی سے مراد اسلامی بھائی ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی۔بھائی فرماکر اشارۃً فرمایا کہ اجنبی عورت کو سلام نہ کرے۔
۲؎ یعنی ملاقات کا سلام غائب ہونے کے بعد ملنے پر ہوگا غائب ہونا اگرچہ معمولی ہی ہو ذرا سی آڑ درمیان میں آگئی ہے غائب ہونا پالیا گیا اب ملنا ملاقات ہے سلام کرو،بلکہ حکمی غائب ہونے کے بعد بھی سلام سنت ہے اس لیے نماز ختم ہونے پر سلام کیا جاتا ہے اس سلام میں نمازی ایک دوسرے کی نیت کریں کیونکہ نمازی بحالت نماز ایک دوسرے سے حکمًا غائب تھے اب عالم بالا کی سیرکرکے آرہے ہیں لہذا سلام کرتے ہیں۔بعد نمازِ فجر بعض لوگ مصافحہ کرتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ مصافحہ بوقت ملاقات ہوتا ہے اور یہ بھی وقت ملاقات ہے۔خیال رہے کہ یہاں وہ حالات مراد ہیں جن میں سلام ممنوع نہ ہو لہذا جو پیشاب پاخانہ یا جماع میں مشغول ہو یا سو رہا ہو،اونگھ رہا ہو یا نماز یا اذان میں مشغول ہو یا غسل خانہ میں ہو ،کھانا کھا رہا ہو لقمہ منہ میں ہو یا تلاوت قرآن کررہا ہو یا دینی درس دے رہا ہو یا سن رہا ہو اسے سلام نہ کرے،اگر کرے گا تو اس کا جواب دینا لازم نہ ہوگا۔(مرقات)یوں ہی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت سلام ممنوع ہے۔
|
4651 -[24] وَعَن قَتَادَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ بَيْتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهِ وَإِذَا خَرَجْتُمْ فَأَوْدِعُوا أَهْلَهُ بِسَلَامٍ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا |
روایت ہے قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم کسی گھر میں جاؤ تو اس کے باشندوں کو سلام کرو ۱؎ اور جب نکلو تو وہاں کے باشندوں کو سلام سے وداع کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ اپنے گھر میں جاؤ یا دوسرے کے بہرحال سلام کرو،اگر خالی گھر میں جاؤ تو کہو السلام علینا وعلی عباد الله الصالحین، اس کا ماخذوہ آیت کریمہ ہے "فَاِذَا دَخَلْتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ"۔ (مرقات)اور جب مسجد میں جاؤ تو کہو بسم الله و السلام علی رسول الله۔روح پاک مصطفی مسجدوں بلکہ مسلمانوں کے گھروں میں جلوہ فرما ہے۔(شرح شفا شریف)
۲؎ یعنی سلام کرکے وہاں سے آؤ یہ سلام وداع کہلاتا ہے اس کا جواب دینا فرض نہیں مستحب ہے۔(مرقات) بعض شارحین نے فرمایا کہ فاودعوا بنا ہے ودیعۃ بمعنی امانت سے یعنی رخصت ہوتے وقت اپنا سلام اہل خانہ کے پاس امانت رکھ آؤ کہ پھر خیر سے واپس آؤ اپنی امانت یعنی خیر و برکت و سلامتی وصول کرو،وداع کے وقت مصافحہ کرنا سنت نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع