دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4645 -[18]

وَعَن معَاذ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَزَاد ثُمَّ أَتَى آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ فَقَالَ: «أَرْبَعُونَ» وَقَالَ: «هَكَذَا تكون الْفَضَائِل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

 ابوداؤد نے حضرت معاذ ابن انس سے بھی روایت کی وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں اس کے ہم معنی اور زیادتی کی کہ پھر دوسرا اور آیا اس نے عرض کیا السلام علیکم ورحمۃ ا للہ وبرکاتہ و مغفرتہ تو فرمایا چالیس اور فرمایا یونہی زیادتیاں ہوتی رہیں گی ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی یہ ثواب صرف مغفرتہ تک ہی محدود نہیں کہ ان کلمات کے علاوہ اور کوئی کلمہ بڑھاؤ ثواب نہ بڑھے بلکہ جس قدر کلمات بڑھاتے جاؤ گے ثواب بھی فی کلمہ دس کے حساب سے بڑھتا ہی جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ السلام علیکم بھی جائز ہے سلام کو معرفہ کرکے اور سلام علیکم بھی جائز سلام کو نکرہ کرکے،السلام کے معنی ہیں وہ سلام یعنی الله کا سلام یا آدم علیہ السلام کا سلام جو انہوں نے فرشتوں کو کیا تھا وہ تم پر بھی ہو، قرآن مجید میں دو طرح سلام مذکور ہیں رب فرماتاہے: "وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"یہاں سلام معروف اور فرماتاہے:"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ" یہاں سلام نکرہ ہے۔ خیال رہے کہ جواب سلام میں علیکم پہلے ہو سلام بعد میں،اگر جواب میں بھی السلام علیکم کہہ دیا تو فرض ادا ہوگیا سنت رہ گئی۔

4646 -[19]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَ السَّلَام» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله سے قریب تر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ یعنی جب دو مسلمان راستہ میں گزرتے ہوئے ملیں اور ان میں سے ہر ایک کو سلام کرنے کا حق ہو تو جو سلام کی ابتداء کرے وہ رحمتِ الٰہی سے بہت ہی قریب ہوگا لہذا یہ فرمان عالی ان فرمانوں کے خلاف نہیں کہ آنے والا بیٹھے ہوؤں کو اور تھوڑے لوگ بہت کو،چھوٹا بڑے کو،سوار پیدل کو سلام کرے۔حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ تین چیزیں محبت پیدا کردیتی ہیں: سلام میں ابتداءکرنا،اپنے مسلمان بھائی کو اچھے لقب سے پکارنا،جب وہ آئے اسے مجلس میں جگہ دے دینا۔(مرقات)

4647 -[20]

وَعَن جَرِيرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وآلہٖ سلم عورتوں پرگزرے تو انہیں سلام کیا ۱؎ (احمد)

۱؎ اجنبی عورتوں کو سلام کرنا حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے خاص ہے کہ وہاں فتنہ کا خطرہ نہیں،دوسرے مسلمان اجنبی عورتوں خصوصًا جوان عورتوں کو ہرگز سلام نہ کریں نہ ان کے سلام کا جواب دیں کہ یہ سلام عشق بلکہ بدکاری کی ابتداء بن سکتا ہے۔(مرقات و اشعہ)

4648 -[21]

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مَرْفُوعا. وروى أَبُو دَاوُد وَقَالَ: وَرَفعه الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ شَيْخُ أَبِي دَاوُدَ

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ جماعت کی طرف سے یہ کافی ہے کہ جب وہ گزریں تو ان میں سے ایک سلام کرے اور بیٹھے ہوؤں کی طرف سے یہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک جواب دے دے ۱؎  بیہقی نے شعب الایمان میں مرفوعًا روایت کیا ۲؎ اور ابواؤد نے روایت کی اور کہا کہ اسے حسن ابن علی نے مرفوع کیا وہ ابوداؤد کے شیخ ہیں۳؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن