30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4639 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أُسامة بن زيد: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک مجلس پرگزرے جس میں مسلمان مشرکین بت پرست اور یہود مخلوط لوگ تھے ۱؎ حضور نے انہیں سلام کیا ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بت پرست بیان ہے مشرکین کا،یہود بھی اگرچہ شرک و بت پرستی کرتے ہیں مگر چونکہ انبیاءکو مانتے ہیں اس لیے انہیں مشرکین نہیں کہا جاتا بلکہ اہلِ کتاب کہا جاتا ہے اس لیے یہودکو مشرکین پر معطوف کیا کبھی غلط نسبت بھی فائدہ پہنچادیتی ہے۔
۲؎ معلوم ہوا کہ مخلوط جماعت جہاں مسلمان کفار ملے ہوئے بیٹھے ہوں وہاں سےگزرنے والا مسلمان سلام کرے اور اپنے سلام سے مسلمانوں کی نیت کرے اور جب کسی کافر کو خط لکھے تو یوں لکھے"السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"۔یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ایسی مجلس پرگزرنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے"السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"۔
|
4640 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا. قَالَ: «فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ» . قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَام والأمرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْي عَن الْمُنكر» |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا راستوں پر بیٹھنے سے بچو ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو وہاں بیٹھنے کے سوا چارہ نہیں ہم وہاں بات چیت کرتے ہیں ۲؎ فرمایا اگر بغیر بیٹھے نہ مانو تو راستہ کو اس کا حق دو۳؎ انہوں نے عرض کیا کہ راستہ کا کیا حق ہے یارسول الله ، فرمایا نگاہ نیچے رکھنا،تکلیف دہ چیز ہٹانا اور سلام کا جواب دینا اور اچھائیوں کا حکم دینا،برائیوں سے روکنا ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ چونکہ راستہ سے عورتیں بچے گزرتے رہتے ہیں،نیز وہاں سے لوگوں کے مال سواریاں گزرتی ہیں اس لیے وہاں بیٹھنا خطرناک بدنظری کا اندیشہ ہے۔
۲؎ یعنی ہماری ضروریات راستوں پر بیٹھنے سے وابستہ ہیں وہاں بیٹھ کر ہم کاروبار اور دیگر ضروریات کی باتیں کرتے ہیں۔
۳؎ یعنی راستہ میں بیٹھ کر وہ نیکیاں کرو جس کی برکت سے تمام وہاں کے گناہوں سے بچے رہو اور ثواب کمالو،یہاں حق بمعنی استحقاق ہے کہ راستہ ان اعمال کا مستحق ہے۔
۴؎ یعنی راستوں پر بیٹھ کر یہ پانچ نیکیاں یا ان میں سے جس قدر بن پڑیں کیا کرو: نگاہیں نیچی رکھو تاکہ اجنبی عورتوں پر نہ پڑیں،راستہ سے کانٹا اینٹ پتھر الگ کردیا کرو تاکہ کسی راہ گیر کو نہ چبھے نہ ٹھوکر لگے،جو راستہ گزرنے والا تمہیں سلام کرتا ہوا گزرے اس کا جواب دو،اگر تم راستہ میں کسی کو کوئی برا کام کرتے دیکھو تو اس سے روکو،اس کی عوض اسے اچھے کام کرنے کا مشورہ دو اس صورت میں تمہارا وہاں بیٹھنا بھی عبادت ہے۔سبحان الله! کیمیا پیتل،تانبہ کو سونا کردیتی ہے،حضور کی تعلیم گناہوں کو ثواب بنادیتی ہے۔شعر
تیرے کرم کا رسالت مآب کیا کہنا ثواب ہوگئے سارے عقاب کیا کہنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع