30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھی باتوں کا بیان ۱؎ سلام کا باب ۲؎
۱؎ آداب جمع ہے ادب کی،لغت میں ادب اس کھانے کو کہتے ہیں جس کے لیے لوگوں کوجمع کیا جاوے اس لیے دسترخوان کو ادبہ کہتے ہیں جس پر لوگ جمع ہوکر کھاتے ہیں۔اصطلاح میں ادب وہ محنت اور مشقت ہے جو اچھے کام کرنے کے لیے برداشت کی جاوے۔اسی سے ہے تادیب،بزرگوں کے احترام کو بھی ادب کہتے ہیں بمعنی تعظیم،یہاں ادب سے مراد اچھے کام اور اچھی باتیں۔(اشعۃ اللمعات)یہاں مرقات نے فرمایا کہ بڑوں کی تعظیم چھوٹوں پر شفقت ادب ہے۔سلام کے لغوی معنی ہیں آفات یا عیوب سے سلامتی،اسی سے ہے تسلیم۔ الله تعالٰی کا نام ہے سلام بمعنی تمام عیوب سے پاک،اپنے بندوں کو سلامتی و امن دینے والا،اسی سے ہے مسلم بمعنی صلح و صفائی،یہاں سلام سے مراد سلام کا جواب ہے جو آتے جاتے وقت کہا جاتا ہے یعنی السلام علیکم کہنا اور اس کا جواب دینا۔
لطیفہ: علما ء فرماتے ہیں کہ السلام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر سلامتی و امان نازل ہو۔علیکم سے پہلے نازلۃ پوشیدہ ہے اور یہ دعائیہ جملہ ہے،مگر صوفیاء فرماتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں سلام یعنی الله تعالٰی تمہارے اعمال،احوال،افعال،اقوال کا نگران ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے،ان کے ہاں سلام نام ہے الله تعالٰی کا اور علیکم سے پہلے رقیب پوشیدہ ہے بمعنی نگران۔(اشعۃ اللمعات)وہ جو حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور انور نے تیمم فرماکر سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ سلام الله کا نام ہے اس لیے بغیر وضو یہ نام نہ لیا وہ حضرات صوفیاء کے معنی کی تائید کرتا ہے۔
دوسرا لطیفہ: مسلمان کو سلام کرنا سنت اور سلام کا جواب دینا فرض ہے مگر ثواب زیادہ ہے سلام کرنے کا یعنی اس سنت کا ثواب اس فرض سے زیادہ ہے جیسے وقت پر قرض ادا کرنا فرض ہے اور وقت سے پہلے ادا کرنا سنت مگر ثواب اس کا زیادہ ہے کہ وعدے سے پہلے اد اکرے یا جیسے محتاج مقروض کو ڈھیل دینا مہلت دینا فرض ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ" معاف کردینا سنت ہے مگر معاف کردینے کا ثواب زیادہ ہے بہرحال بعض سنتوں کا ثواب بعض فرضوں سے زیادہ ہے۔
|
4628 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ على صورته طوله ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " قَالَ: «فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» . قَالَ: «فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بعدَه حَتَّى الْآن» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ الله نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۱؎ جن کے قدکی لمبائی ساٹھ گز تھی ۲؎ تو جب انہیں پیدا کیا تو فرمایا جاؤ ان لوگوں پٖر سلام کرو وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی بیٹھی ہوئی۳؎ تو غور سے سنو وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں پھر وہ ہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے ۴؎ چنانچہ آپ گئے تو کہا السلام علیکم ۵؎ ان سب نے کہا السلام علیک ورحمۃ الله فرمایا تو انہوں نے ورحمۃ الله بڑھا دیا۶؎ تو جو بھی جنت میں جاوے گا حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۷؎ اور اس کا قد ساٹھ۶۰ گز ہوگا پھر جناب آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق گھٹتی رہی حتی کہ اب تک ۸؎(مسلم، بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع