30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں گھنا باغ جس کے نیچے دھوپ نہ پہنچے زمین پر اندھیرا رہے،بعض نے فرمایا بڑی لمبی گھاس والا باغ مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔(مرقاۃ و اشعہ)
۴؎ ربیع موسم بہار کو کہتے ہیں جو سردی اور گرمی کے درمیان ہوتا ہے،اس زمانہ میں ہر قسم کے پھول و شگوفے کھلے ہوتے ہیں۔نوز نون کے فتحہ سے بمعنی شگوفہ و گل یعنی اس باغ میں ہر قسم کی کلیاں تھیں کسی پھول یا کلی کا انتظار نہ تھا۔
۵؎ لوگوں کا خیال ہے کہ لفظ قط نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے مگر حق یہ ہے کہ قط نفی و اثبات دونوں کی تاکید کے لیے آتا ہے،یہاں اثبات کی تاکید کے لیے ہے یعنی اس شخص کے اردگرد اتنے زیادہ بچے ہیں کہ اتنے بچے کبھی کبھی ہی دیکھے ہوں گے۔
۶؎ یعنی یہ باغ اس پہلے باغ سے بھی زیادہ بڑا اور زیادہ خوبصورت تھا ورنہ یہ نہ فرمایا جاتا کہ ہم نے ایسا باغ کبھی نہ دیکھا۔
۷؎ یعنی اس باغ کے درمیان ایک بڑا شہرتھا اس شہر کے درمیان مکانات سونے چاندی کی اینٹوں کے تھے۔
۸؎ خیال رہے کہ دروازہ کھلوانے والے تو وہ دونوں فرشتے ہی تھے مگر اس شہر میں داخل ہونے والے وہ دونوں اور حضور صلی الله علیہ وسلم سب ہی حضرات ہیں جیساکہ بالکل ظاہر ہے۔
۹؎ یعنی اس شہر میں لوگوں کے آدھے منہ کالے اور بدنما آدھے منہ گورے اور نہایت خوشنما تھے یہ حسن و قبح انتہائی درجہ کا تھا۔
۱۰؎ یعنی اس نہر میں غسل کرتے ہی ان کے نصف منہ کی سیاہی ختم ہوگئی،سارا چہرہ حسین اور سفید ہوگیا تو یہ لوگ حسین اور گورے ہوکر ہمارے پاس آئے خوشیاں مناتے ہوئے۔سبحان الله! عجیب ہی خواب ہے۔
۱۱؎ ذکر معروف ہے اس کا فاعل حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہیں یعنی خود حضور انور نے حضرات صحابہ کرام سے تعبیر ارشاد فرمائی۔معلوم ہوا کہ اگر خواب دیکھنے والا خود تعبیر کا علم رکھتا ہو خودبھی تعبیر دیدے کسی سے پوچھنے کی اسے ضرورت نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ خود بھی تعبیر دے تب بھی کسی کو خواب سنادے تعبیر بھی سنادے تاکہ اس کا ظہور ضرور ہوجاوے،بعض نسخوں میں ذکر مجہول کے صیغے سے ہے مگر اسے مرقات نے ضعیف فرمایا۔
۱۲؎ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دراز قد دیکھنا آپ کے بلندی درجات کی طرف اشارہ ہے جیسے قیامت کے دن مؤذن لوگ بہت درازگردن ہوں گے یہ درازی قد معاذ الله بری معلوم نہ ہوگی۔
۱۳؎ یعنی وہ انسان کے بچے جو لڑکپن میں مرجاویں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش میں رہتے ہیں۔
۱۴؎ یعنی کفار و مشرکین کے بہت چھوٹے اور بالکل نا سمجھ بچے جو فوت ہو جاویں وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش میں ہی مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ ہوں گے۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات انبیاء کرام اور اولیاء عظام بعد وفات بھی کار سازی کرتے ہیں،د یکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام بعد وفات ہمارے چھوٹے بچوں کو تربیت و پرورش فرمارہے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سب سے خبردار ہیں بے خبر نہیں،بعد وفات الله تعالٰی کے مقبول بندے بے خبر نہیں ہوجاتے۔تیسرے یہ کہ کفار اور مشرکین کے چھوٹے بچے فوت شدہ جنتی ہیں وہ دوزخی نہیں۔جن احادیث میں ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے تابع ہوکر دوزخی ہیں اس سے وہ بچے مراد ہیں جو ہوش سنبھال کر اپنی فطرت بدل کر کافر ہوکر مریں،جو شعور سے پہلے مرجاویں وہ جنتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں اسی لیے یہاں مات علی الفطرۃ ارشاد ہوا۔حدیث شریف میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا مجوسی یا مشرک بنادیتے ہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع