30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4625 -[20] عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكْثُرُ أَنْ يَقُولَ لِأَصْحَابِهِ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا؟» فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ: " إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي: انْطَلِقْ وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ". وَذَكَرَ مِثْلَ الْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ بِطُولِهِ وَفِيهِ زِيَادَةٌ لَيْسَتْ فِي الْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ وَهِيَ قَوْلُهُ: " فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْتِمَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا مَا هَؤُلَاءِ؟ " قَالَ:"قَالَا لِيَ: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ ". قَالَ:"قَالَا لِيَ: ارْقَ فِيهَا". قَالَ: «فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَاهَا فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ» . قَالَ: " قَالَا لَهُمُ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ " قَالَ: «وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» وَذَكَرَ فِي تَفْسِير هَذِه الزِّيَادَة: «وَأما الرجلُ الطويلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ» قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شطرٌ مِنْهُم حسن وَشطر مِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ قَدْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ الله عَنْهُم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھی ہے چنانچہ آپ کی خدمت میں وہ شخص بیان کرتا جسے الله چاہتا اور حضور نے ایک صبح فرمایا کہ آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے ۱؎ اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ گیا اور اس طرح کی حدیث بیان کی جو پہلی فصل میں بہت دراز ذکر ہوئی اس میں کچھ زیادتی بھی ہے جو مذکورہ حدیث میں نہیں ۲؎ اور وہ حضور کا یہ قول ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ پر آئے ۳؎ جس میں ہر قسم کی بہار کی کلیاں تھیں۴؎ اور ناگاہ باغ کے درمیان ایک دراز قد شخص ہے نہیں قریب تھا میں کہ ان کا سر دیکھوں آسمان میں درازی کی وجہ سے اور اس شخص کے اردگرد بہت بچے ہیں جنہیں میں نے کبھی دیکھا ہو ۵؎ میں نے کہا یہ کیا ہے اور یہ کون لوگ ہیں؟ فرماتے ہیں وہ دونوں بولے چلو تو ہم ایک بڑے باغ تک پہنچے کہ اس سے بڑا میں نے کبھی نہ دیکھا ۶؎ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ میں اس میں چڑھ جاؤں فرماتے ہیں کہ پھر ہم اس میں چڑھ گئے تو ایسے شہر تک پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا تھا ۷؎ تو ہم شہر کے دروازے پر پہنچے ہم نے دروازہ کھلوایا وہ کھولا گیا ہم اس میں داخل ہوگئے ۸؎ وہاں ہم کو کچھ لوگ ملے جن کی آدھی شکل تو بہت ہی اچھی تھی جو تم دیکھو اور ان کی آدھی شکل بہت ہی بری جو تم دیکھو ۹؎ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے ان سے کہا جاؤ اس نہر میں کود جاؤ فرماتے ہیں کہ سامنے ہی نہر بہ رہی تھی جس کا پانی سفید و خالص چٹا تھا چنانچہ یہ لوگ گئے پھر اس میں کود گئے پھر ہمارے پاس آئے حالانکہ ان سے تمام برائی جاچکی تھی اور وہ نہایت اچھی شکل میں ہوگئے تھے ۱۰؎ اور اس زیادتی کی تفسیر میں ذکر فرمایا ۱۱؎ کہ وہ دراز قدشخص جو باغ میں تھے وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ۱۲؎ اوروہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ہر ایسا بچہ ہے جو اسلام پر مرے۱۳؎ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا یارسول الله مشرکوں کے بچے بھی تو فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اور مشرکوں کے بچے بھی۱۴؎ لیکن وہ قوم جن کا آدھا حصہ اچھا اور اچھا برا تھا وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے اچھے برے کام ملا کر کئے الله تعالٰی نے ان سے درگزر فرمادی ۱۵؎ (بخاری) |
۱؎ یہ بھی منامی معراج ہے جو بالتفصیل پہلےگزر چکی۔یہ دونوں آنے والے دو فرشتے تھے حضرت جبرئیل و میکائیل علیہما السلام جو شکل انسانی میں حضور علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے۔
۲؎ یعنی ابھی پہلی فصل میں جو یہ ہی حدیث گزری ہے اس میں وہ زیادتی نہیں جو اب اس تیسری فصل میں بیان ہورہی ہے۔
۳؎ معتمہ بنا ہے عمہ سے بمعنی سیاہی یا اندھیرا اس لیے نماز عشاء کو عتمہ کہا جاتا ہے کہ وہ رات اندھیری ہوجانے پر پڑھی جاتی ہے۔یہاں معتمہ کے معنی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کا سبزہ جو مائل بہ سیاہی ہو۔قرآن کریم دو جنتوں کے متعلق فرماتا ہے کہ "مُدْہَآمَّتَانِ"وہ دونوں باغ سیاہ ہیں یعنی ان کی سبزی مائل بہ سیاہی ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ معتمہ کے معنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع