30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں صخر فرمایا ہوگا یعنی چٹان کیونکہ یہ صفات چٹان کی ہیں،لڑھکنا پھر اسے اٹھانے جانا،پتھریوں کے لیے بکھرجانا،انہیں جمع کرنا(بیننا)کہا جاتا ہے۔
۱۰؎ یعنی اس شخص کے پتھر لینے جانے کے دوران اس شخص کا کچلا ہوا سر پہلے کی طرح بالکل درست اور کچلنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
۱۱؎ مگر اسے بار بار مارنے سر کچلنے سے وہ شخص مرتا نہیں ورنہ عذاب کا دوام کیسے ہو۔
۱۲؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بجائے ثقب کے نقب نون سے ہے،ثقب ث سے ہر آرپار سوراخ کو کہتے ہیں خواہ چھوٹا ہو یا بڑا مگر نقب نون سے بڑے سوراخ کو ہی کہا جاتا ہے،ثقب ث سے زیادہ مشہور ہے۔
۱۳؎ مگر اس کے باوجود ان کی جان نہیں نکلتی ہے تاکہ آگ کا یہ عذاب ان پر قائم رہے۔
۱۴؎ یعنی پہلے دیکھے ہوئے دو عذاب شخصی تھے یہ تیسرا عذاب قومی تھا جس میں مردوعورتیں سب ایک ساتھ ہی گرفتار تھے۔خدا کی پناہ!
۱۵؎ یعنی جو شخص خون کی نہر میں کھڑا ہے وہ سخت تنگی مصیبت و تکلیف میں ہے وہ وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔آج گرمیوں کے موسم میں گرم پانی کے ٹپ میں کھڑا ہونا ہی سخت تکلیف دہ ہوتا ہے وہ تو گرم خون میں کھڑا ہوتا تھا اس سے بھاگتا تھا مگر کنارے والا آدمی اسے نکلنے نہ دیتا تھا،نہر کے اس پار نکلنے کی راہ نہ تھی اس لیے وہ اس طرف بھاگ کر آتا اور پتھر کھا کر لوٹ جاتا یہ تو عذاب دکھائے گئے اب ثواب دکھائے جاتے ہیں۔
۱۶؎ اور اس کی قدرتیں و رحمتیں بھی دیکھئے۔
۱۷؎ یہاں جڑ سے مراد عین جڑ نہیں بلکہ درخت کی جڑ سے محض جگہ مراد ہے،درخت کے پھیلاؤ کے نیچے وہاں یہ بزرگ اور بچے ہیں۔(مرقات)
۱۸؎ درخت کے نیچے مکان ہونے کی کیفیت ہماری سمجھ سے بالا ہے۔اسے دیکھنے والا جانے یا دکھانے والا بہرحال جو صورت بھی ہو ہمارا اس پر ایمان ہے۔
۱۹؎ یعنی اس دنیا میں کبھی ایسا شاندار مکان نہ دیکھا ورنہ منامی جسمانی خوابوں میں جنت میں مکانات دیکھے تھے یہ بھی جنت کا ہی مکان تھا۔
۲۰؎ شباب جمع ہے شباب کی بمعنی جوان مرد ہو یا عورت سب پر بولا جاتا ہے۔
۲۱؎ یعنی اس گھر کی بناوٹ اور یہاں کی زیب و زینت پہلے گھر سے کہیں زیادہ تھی،حسن سے مراد ہے ذاتی خوبی،فضل سے مراد ہے آرائش و افضلیت۔
۲۲؎ یہاں عورتوں بچوں کا ذکر نہیں اس کی وجہ بیان تعبیر سے ہی معلوم ہوگی اس لیے کہ یہ جگہ کاملین کی ہے اور عورتیں بچے کامل کم ہوتے ہیں اس لیے۔
۲۳؎ تاکہ خواب کی تعبیر خواب ہی میں ہوجاوے۔سبحان الله اس خواب کے بھی قربان جائیے اور اس تعبیر کے بھی فدا۔
۲۴؎ یعنی جھوٹ کا موجد جھوٹ گھڑنے والا اور لوگوں میں جھوٹ پھیلانے والا جس سے اور لوگ بھی جھوٹ بولیں،اس میں دنیاوی جھوٹے بھی داخل ہیں اور دینی جھوٹے بھی،جو بے دینی کا موجد جھوٹا دین گھڑ کر لوگوں میں شائع کرے لوگ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع