30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4621 -[16] وَعَن سُمرةَ بنِ جُندب قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟» قَالَ: فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ: «هَلْ رَأَى مِنْكُمْ أَحَدٌ رُؤْيَا؟» قُلْنَا: لَا قَالَ: " لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدَيَّ فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ يُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ. قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ يَشْدَخُ بِهَا رَأْسَهُ فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلَهُ وَاسِعٌ تَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارٌ فَإِذَا ارْتَفَعَتِ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسْطِ النَّهَرِ وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَ الشجرةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِيَ الشَّجَرَةَ فأدخلاني دَار أوسطَ الشَّجَرَةِ لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فصعدا بِي الشَّجَرَة فأدخلاني دَار هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ فَقُلْتُ لَهُمَا: إِنَّكُمَا قَدْ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ قَالَا: نَعَمْ أَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ مَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُ الرِّبَا وَالشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ قَالَا: ذَلِكَ مَنْزِلُكَ قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَهُ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ «. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَذَكَرَ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ فِي» بَاب حرم الْمَدِينَة " |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے چہرہ انور سے ہم پر متوجہ ہوتے فرماتے تم میں آج رات کسی نے خواب دیکھا ہے ۲؎ فرماتے ہیں اگر کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو اسے بیان کرتا آپ وہ فرماتے جو رب چاہتا چنانچہ ہم سے پوچھا فرمایا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۳؎ فرمایا لیکن میں نے آج رات دو شخصوں کو دیکھا جو میرے پاس آئے انہوں نے میرے ہاتھ پکڑے پھر مجھے مقدس زمین کیطرف لے گئے ۴؎ تو ایک شخص بیٹھا تھا اور ایک شخص کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا زنبور ہے جسے اس کے جبڑے میں داخل کرتا ہے تو اسے چیر دیتا ہے حتی کہ اس کی گدی تک پہنچا دیتا ۵؎ پھر اسکے دوسرے جبڑے سے اسی طرح کرتا اور اس کا وہ جبڑا بھر جاتا پھر لوٹتا تو اسی طرح کرتا ہے ۶؎ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا چلئے ۷؎ چنانچہ ہم چل دیئے حتی کہ ایک شخص پر پہنچے جو اپنی پیٹھ پر لیٹا ہے اور ایک شخص اسکے سر پر پتھر یا چٹان لیے کھڑا ہے ۸؎ جس سے اس کا سر کچل رہا ہے جب اسے مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے وہ اسے لینے چلا جاتا ہے ۹؎ تو وہ اس تک لوٹ کر نہیں آتا حتی کہ اس کا سر بھر جاتا ہے اور اس کا سر جیسا تھا ویسا ہوجاتا ہے۱۰؎ پھر وہ لوٹ کر اس تک آتا ہے اور اسے مارتا ہے ۱۱؎ میں نے کہا یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلئے تو ہم چلے حتی کہ ہم ایک سوراخ تک پہنچے جو تنور کی طرح تھا ۱۲؎ کہ اس کا اوپر تنگ نیچا فراخ تھا جس کے نیچے آگ تھی جب آگ بھڑکتی تو وہ لوگ اوپر اچھلتے حتی کہ اس کے نکلنے کے قریب ہوجاتے اور جب بجھتی تو اس میں لوٹ جاتے۱۳؎ اس میں ننگے مردوعورتیں تھیں۱۴؎ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟وہ بولے چلئے ہم چل دیئے حتی کہ ایک خون کی نہر پر پہنچے جس میں ایک آدمی درمیان نہر کے کھڑا تھا اور نہر ے کنارے پر ایک آدمی کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر تھے جو آدمی نہر میں تھا وہ آتا جب نکلنا چاہتا تو یہ شخص اس کے منہ میں پتھر مارتا تو اسے وہاں ہی لوٹا دیتا جہاں تھا ۱۵؎ پھر یہ کرنے لگا کہ جب بھی یہ نکلنے کے لیے آتا تو اس کے منہ میں پتھر مارتا وہ جہاں تھا وہاں لوٹ جاتا میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ وہ بولے چلئے۱۶؎ ہم چلے حتی کہ ایک سبز باغ تک پہنچے جس میں ایک بڑا درخت تھا جس کی جڑ میں ایک بوڑھے صاحب اورکچھ بچے ۱۷؎ تھے ایک شخص درخت سے قریب تھا جس کے سامنے آگ تھی جسے وہ روشن کر رہا تھا یہ مجھے درخت تک لے گئے مجھے اس گھر میں داخل کیا جو درخت کے نیچے ہی تھا۱۸؎ اس سے اچھا مکان میں نے کبھی نہ دیکھا ۱۹؎ اس میں کچھ لوگ بوڑھے اور جوان اورعورتیں وبچے تھے ۲۰؎ پھر وہ مجھے وہاں سے لے گئے مجھے اس درخت میں جڑ کے پاس ایسے گھر میں داخل کیا جو اس سے بھی اچھا اور بہتر تھا ۲۱؎ اس میں بوڑھے اورجوان تھے ۲۲؎ میں نے ان دونوں سے کہاتم نے مجھے آج رات بھر پھرایا مجھے اس کی خبر دو۲۳؎ جو میں نے دیکھا وہ بولے ہاں لیکن وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جارہا ہے یہ وہ جھوٹا ہے جو جھوٹی خبر دیتا ہے جو اس سے نقل کی جاتی ہے حتی کہ سارے ملک میں پھیل جاتی ہے ۲۴؎ جو کچھ آپ نے دیکھا اس کے ساتھ تا روز قیامت کیا جاوے گا اور جو آپ نے دیکھا اس کا سر کچلا جارہا ہے یہ وہ شخص ہے جسے الله تعالٰی نے قرآن سکھایااور وہ رات میں اس سے غافل سویا اور دن میں اس کے فرمان پرعمل نہ کیا جو کچھ آپ نے دیکھااس کے ساتھ یہ قیامت تک کیا جاوے گا۲۵؎ اور جو لوگ آپ نے تنور میں دیکھے یہ زانی لوگ ہیں ۲۶؎ اور جسے آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار ہے ۲۷؎ اور وہ بوڑھے صاحب جنہیں آپ نے درخت کی جڑ میں دیکھا ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے آس پاس والے بچے وہ لوگوں کی اولاد ہے ۲۸؎ اور وہ جو آگ روشن کر رہے تھے وہ مالک ہیں دوزخ کے خزانچی ۲۹؎ اور پہلا گھر جس میں آپ گئے وہ عام مسلمانوں کا گھر ہے۳۰؎ اور یہ گھر شہداء کا گھر ہے ۳۱؎ میں جبرئیل ہوں اور ۳۲؎ یہ میکائیل اپنا سر تو اٹھائیے میں نے اپنا سر اٹھایا تو ناگاہ میرے سر پر بادل جیسا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ سفید تہ بہ تہ بادل جیسا۳۳؎ وہ دونوں بولے یہ آپ کا گھر ہے۳۴؎ میں نے کہا مجھے چھوڑو اپنے گھر میں جاؤں وہ بولے کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے گھر چلے جاتے ۳۵؎(بخاری)اور عبدالله ابن عمر کی حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم کی خواب مدینہ منورہ کے بارے میں باب حرم مدینہ میں ذکر کی گئی۔ |
۱؎ آپ کا ذکر بارہا ہوچکا ہے کہ آپ عظیم الشان صحابی ہیں،بڑے محدث ہیں،بصرہ میں آپ کی وفات ہوئی، ۵۹ ہجری میں یا ۶۰ ہجری میں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ لوگوں سے خواب پوچھنا اس کی تعبیر دینا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہےبشرطیکہ تعبیر خواب کا علم ہو۔
۳؎ یا تو صراحۃً نہیں فرمایا تمام حضرات خاموش رہے،یہ خاموشی نفی کی علامت تھی۔(مرقات)پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۴؎ یہ حضور کی معراج منامی یعنی خواب کی معراج ہے۔زمین مقدس سے مراد فلسطین کی زمین ہے جہاں بیت المقدس واقع ہوا ہے،چونکہ اس زمین میں حضرات انبیاء کے مزارات بہت ہیں اس لیے اسے قدس کہا جاتا ہے۔چنانچہ بیت المقدس سے تیس۳۰ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے خلیل الرحمن وہاں ہے غار انبیاء،اس غار میں ستر ہزار نبیوں کے مزارات ہیں،میں نے وہاں کی زیارت کی ہے،درمیان میں بیت اللحم آتا ہے جائے پیدائش عیسیٰ علیہ السلام یا زمین مقدس سے کوئی اور پاک زمین مراد ہے۔والله اعلم!
۵؎ یہ کھڑا ہوا شخص فرشتہ عذاب تھا اور بیٹھا ہوا شخص مجرم انسان،یہ عذاب برزخی تھا جو حضور کو آنکھوں سے دکھایا گیا۔
۶؎ یعنی دو طرفہ جبڑے چیرنے کا کام مسلسل کررہا تھا داہنا جبڑا چیرتا تو اتنی دیر میں بایاں جبڑا بھرکر چیرنے کے قابل ہوجاتا اور جب بایاں جبڑا چیرتا تو داہنا جبڑا بھرکر چیرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
۷؎ یعنی آگے چلئے ابھی آپ نے اور بھی عجائبات دیکھنے ہیں سب کی تفصیل آخر میں ایک ساتھ عرض کردی جاوے گی۔
۸؎ فہر یا تو چھوٹی پتھریاں مٹھی بھر کر یا مطلقًا پتھر۔صخرہ بڑا پتھر بمعنی چٹان شک،راوی کو ہے کہ حضور انور نے فہر فرمایا،یا صخر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع