30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھے تو وہ بدحال ہوجاوے گا،غلام دیکھے تو آزاد ہوجاوے گا،مقروض دیکھے تو قرض سے آزاد ہوجاوے گا لہذا یہ حدیث بھی صحیح ہے اور معبرین کی یہ مذکورہ تعبیریں بھی درست ہیں۔ (مرقات و اشعہ)
|
4617 -[12] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُوتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک رات مجھے اس میں جس میں سونے والا دیکھتا ہے دکھایا ۱؎ گیا گویا ہم عقبہ ابن رافع کے گھر میں ہیں کہ ہمارے پاس ابن طاب سے کچھ رطب لائے گئے ۲؎ میں نے تعبیر دی کہ دنیا میں بلندی ہمارے لیے ہے اور آخرت میں انجام بھی اور یہ کہ ہمارا دین طیب ہوگیا۳؎ (مسلم) |
۱؎ ما یری النائم سے مراد صادقہ و صالحہ خوابیں ہیں۔النائم میں الف لام عہدی ہے جس سے مؤمن صالح نائم مراد ہے۔
۲؎ یعنی ہم مع صحابہ کرام ان کے گھر میں ہیں ہم سب کے پاس یہ کھجوریں لائی گئیں۔ابن طاب مدینہ منورہ میں ایک شخص تھا جس کی طرف یہ کھجوریں منسوب ہیں،انہیں عذق ابن طاب بھی کہتے ہیں اور رطب ابن طاب بھی۔
۳؎ حضور انور نے یہ تعبیر ان کے ناموں سے دی۔حضور انور ناموں سے نامی بیداری بھی لیتے تھے۔چنانچہ سفر ہجرت میں حضور انور نے کفار کی ایک جماعت کو دیکھا جس کا سردار بریدہ اسلمی تھا جسے کفار مکہ نے سو۱۰۰ اونٹ کے وعدہ پر حضور انور کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا تھا،آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ بولا بریدہ تو صدیق اکبر نے فرمایا (برد امرنا) ہمارے کاموں میں ٹھنڈک ہوئی،پھر پوچھا تیرا نسب کیا ہے بولا بنی اسلم،فرمایا ان شاءالله ہم کو سلامتی ملی،پھر پوچھا کون سا اسلم؟بولا بنی سہم والے،فرمایا(اصبت سہمك)تو نے اپنا حصہ پالیا اسی وقت بریدہ مسلمان ہوگئے اور حضور کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہوئے گویا حضور علیہ السلام نے جو کہا فورًا ہوا انہیں حصہ مل گیا۔(اشعۃ اللمعات)
|
4618 -[13] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ: أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فعادَ أحسنَ مَا كانَ فإِذا هوَ جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ " |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کررہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں تو میرا خیال ادھر گیا ۱؎ کہ وہ زمین یمامہ یا ہجر ہے ۲؎ مگر وہ نکلا مدینہ یعنی یثرب۳؎ اور میں نے اپنی اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو اس کا درمیانی حصہ ٹوٹ گیا یہ وہ تکلیف تھی جو مسلمان کو احد کےدن پہنچی ۴؎ پھر میں نے اسے دوبارہ ہلایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی ہوگئی تو یہ وہ فتح اور مسلمانوں کا اجتماع ہے جو الله تعالٰی نے عطا فرمایا ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ وھل واؤ اور ہ کے فتحہ سے بمعنی گھبراہٹ اور فورًا دل میں آنے والا خیال۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع