30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعجبھم کا مرجع حضرات صحابہ کرام ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ گلے میں طوق لعنت کی علامت ہے،پاؤں میں بیڑی دین پر استقامت کی نشانی ہے۔
|
4615 -[10] قَالَ البُخَارِيّ: رَوَاهُ قَتَادَة وَيُونُس وَهِشَام وَأَبُو هِلَالٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ يُونُسُ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْدِ وَقَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ؟ وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ: «وَأَكْرَهُ الْغُلَّ. . .» إِلَى تَمام الْكَلَام |
بخاری نے فرمایا کہ اسے قتادہ یونس ہشیم اور ابو ہلال نے محمد ابن سیرین سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے ۱؎ روایت کیا یونس نے فرمایا میں اسے نہیں خیال کرتا مگر نبی صلی الله علیہ وسلم سے قید کے متعلق ۲؎ اور مسلم نے کہا مجھے خبر نہیں کہ وہ حدیث میں ہے یا یہ ابن سیرین نے کہا۳؎ اورایک روایت میں ہے کہ حدیث میں یہ قول اکرہ الغل پورے کا پورا حدیث میں داخل کرلیا گیا ہے ۴؎ |
۱؎ قتادہ تو مشہور تابعی ہیں،یونس نام کے بہت راوی ہیں یہاں یونس ابن عبید بصری مراد ہیں جو عبدالقیس کے آزادکردہ غلام ہیں کیونکہ محمد ابن سیرین سے زیادہ روایت یہی کرتے ہیں،ہشیم سے مراد ہشیم ابن بشیر سلمی ہیں،ابو ہلال بھی تابعی ہیں،ان چاروں بزرگوں نے کہا کہ محمد ابن سیرین نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔(اشعہ)
۲؎ یعنی یونس ابن عبید نے کہا کہ قید کے متعلق یہ فرمان کہ قید پسند کرتے تھے یہ حضور کا فرمان عالی ہے کہ حضور خواب میں قید دیکھنا پسند فرماتے تھے۔
۳؎ یعنی خواب میں قید دیکھنے کا محبوب ہونا یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے یا محمد ابن سیرین کا اپنا قول ہے۔
۴؎ یعنی کان یکرہ الغل سے لے کر فی الدین تک کی عبارت حدیث میں نہیں ہے یہ ابن سیرین کا اپنا قول ہے مگر اسے حدیث میں اس طرح بیان کیا ہے کہ حدیث کا جز معلوم ہوتا ہے یہ شامل کرنے والے یا تو ابن سیرین ہیں یا ابوہریرہ۔ (اشعہ)یہاں مرقات نے فرمایا کہ طوق گردن میں پڑتا ہے اور قیامت کے دن کفار کی گردنوں میں طوق ہوگا،رب فرماتاہے: "اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنٰقِہِمْ"لہذا یہ خواب میں دیکھنا اچھا نہیں اور بیڑیاں پاؤں میں پڑتی ہیں جس سے پاؤں ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے اس میں اشارہ ہے کہ اس کو اسلام پر ثابت قدمی نصیب ہوگی،اپنے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے دیکھنا بخل کی علامت ہے۔
|
4616 -[11] وَعَن جَابر قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرا سر کاٹ دیا گیا ہے ۱؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا جب تم میں سے کسی سے شیطان خواب میں کھیلے تو لوگوں کو اس کی خبر نہ دے(مسلم)۲؎ |
۱؎ یعنی مجھے ذبح یا قتل کردیا گیا اور میں اپنے ذبح اپنے قتل کو خود دیکھ رہا ہوں وہ صاحب خواب سے گھبرا گئے تھے۔
۲؎ شاید حضور صلی الله علیہ وسلم نے وحی سے معلوم فرمالیا کہ یہ خواب اضغاث احلام سے ہے شیطان نے اسے مغموم کرنے کے لیے یہ خواب دکھایا ہے اگر یہ خواب درست ہو تو اس کی تعبیر ہوتی ہے،تبدیلی حال مغموم دیکھے تو اسے خوشی ہوگی،خوش حال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع