30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4612 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفُلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أحدا فَإِنَّهَا لن تضره» |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھی خواب الله کی طرف سے ہے اور بری خواب شیطان کی طرف سے ۱؎ تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے ۲؎ اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کی شر سے اور شیطان کی شر سے الله کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگی ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اچھے خواب کو رؤیا کہتے ہیں اور برے خواب کو حلم،اسی سے ہے اضغاث احلام اسی سے بنا ہے احتلام، اگرچہ ساری خوابیں رب تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں مگر بارگاہِ الٰہی کا ادب یہ ہے کہ بُری اور ڈراؤنی خوابوں کو شیطان کی طرف سے نسبت دے کیونکہ مسلمان کی بری خوابوں سے بہت خوش ہوتا ہے۔(مرقات) بہرحال اچھی خواب رب کی بشارت ہے تاکہ مسلمان الله کی رحمت کا منتظر اور شکر میں مشغول ہوجائے بری خواب مایوس کن ہے اور مایوسی شیطانی عمل ہے۔
۲؎ یعنی اچھی خواب ضرور بیان کرے تاکہ اس کا ظہور ہوجائے مگر بیان کرے ایسے عالم معتبر سے جو اس کا دوست و خیرخواہ ہو تاکہ وہ تعبیر خراب نہ دے اچھی تعبیر دے خواب کی پہلی تعبیر ہی پر خواب کا ظہور ہوتا ہے۔
۳؎ یہ عمل بہت مجرب ہے کیسی ہی خطرناک خواب دیکھو یہ عمل کرلو ان شاءالله اس کا ظہور کبھی نہ ہوگا، اچھی خواب الله کی نعمت ہے اس کا چرچہ کرو"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"اور بری خواب بلا و امتحان ہے اس پر صبرکرو کسی سے نہ کہو رب سے عرض کرو ان شاءالله دفع ہوجائے گی۔(مرقات)چونکہ حضور کے خطرناک خواب بھی رب کی طرف سے ہوتے تھے اس لیے حضور لوگوں سے انکا ذکر فرمادیتے پھر ان کا ظہور بھی ہوتا تھا جیسے حضور نے خواب میں تلوار ٹوٹتی دیکھی اس کا ظہور غزوہ احد کی تکالیف کی شکل میں نمودار ہوا، ہاتھوں پر بھاری کنگن دیکھے ان کا ظہور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے ہوا لہذا حضورانور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان حضور کے اس عمل شریف کے خلاف نہیں۔
|
4613 -[8] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كانَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوک دے اورتین بار شیطان سے الله کی پناہ مانگے اور جس کروٹ پر تھا اس سے پھر جاوے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ عربی میں بصق کہتے ہیں تھوکنے کو،اتفل کہتے ہیں تھتکارنے کو،یہاں بصق سے مراد تھتکارنا ہی ہے جیساکہ دوسری روایات میں ہے یہ تینوں عمل شیطان کو ذلیل کرنے اور اپنے حال کو بدلنے کے لیے ہے،شیطان اکثر بائیں ہاتھ پر رہتا ہے ادھرتھوکنا گویا شیطان کے منہ پر تھوکنا ہے،یہ عمل بھی مجرب ہے،برے خواب میں یہ دیکھ کر یہ کرنا چاہیے اس سے خواب ختم ہوجاتا ہے۔
|
4614 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ يَكَدْ يَكْذِبُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ».قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: وَأَنَا أَقُولُ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: حَدِيثُ النَّفْسِ وَتَخْوِيفُ الشَّيْطَانِ وَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ: وَكَانَ يُكْرَهُ الْغُلُّ فِي النَّوْمِ وَيُعْجِبُهُمُ الْقَيْدُ وَيُقَال: الْقَيْد ثبات فِي الدّين |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب زمانہ قریب ہوگا ۱؎ تو مؤمن کی خواب جھوٹی نہ ہوسکے گی۲؎ اور مؤمن کی خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور جس کا تعلق نبوت سے ہو وہ جھوٹی نہیں ہوتی ۳؎ محمد ابن سیرین نے فرمایا۴؎ کہ میں کہتا ہوں کہ خواب تین طرح کی ہے نفسیاتی خیالات ۵؎ اور شیطان کی دھمکی اور الله کی طرف سے بشارت ۶؎ تو جو ناپسند چیز خواب میں دیکھے اسے کسی پر بیان نہ کرے اور کھڑا ہوجاوے نماز پڑھ لے ۷؎ فرمایا کہ آپ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اورا نہیں قید پسندتھی ۸؎ کہا جاتا ہے کہ قید دین میں پختگی ہے۔(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع