30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرش سے ورا جاکر یعنی معراج کی رات،ہاں خواب میں رب تعالٰی کی زیارت ہوسکتی ہے بلکہ بعض خواص کو ہوئی ہے،حضور انور صبح کی نماز میں دیر سے آئے بعد نماز فرمایا میں نے رب کو اچھی صورت میں دیکھا جیساکہ ہم نے باب المساجد میں اس حدیث کی شرح میں لکھ چکے ہیں،بعض لوگ اس حدیث کے معنی یہ کرتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد رب تعالٰی کی ذات ہے اور معنی یہ ہیں کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا تعالٰی کو دیکھ لیا کیونکہ حضور انور آئینہ ذات کبریا ہیں جیسے کہا جائے کہ جس نے قرآن مجید پڑھا اس نے رب سے کلام کرلیا یا جس نے بخاری دیکھی اس نے محمد بن اسماعیل کو دیکھ لیا اگرچہ بعض لوگ اس معنی کی تردید کرتے ہیں لیکن ہم نے جو توجیہ عرض کی اس توجیہ سے یہ معنی درست ہیں،قرآن کریم نے حضور کو ذکر الله فرمایا:"قَدْ اَنۡزَلَ اللہُ اِلَیۡکُمْ ذِکْرًا رَّسُوۡلًا" کیونکہ حضور کو دیکھ کر خدا تعالٰی یاد آتا ہے حضور مذکر ہیں "اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ"۔یہاں مرقات،اشعۃ اللمعات نے اس حدیث کے متعلق بڑی اعلیٰ باتیں فرمائی ہیں۔
|
4611 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من رَآنِي فِي الْمَنَام فيسراني فِي الْيَقَظَةِ وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي» |
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا ۱؎ اور شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث کے بھی چند معنی کیے گئے: ایک یہ کہ جس صحابی نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔دوسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے قیامت میں بیداری میں دیکھے گا۔تیسرے یہ کہ جس مسلمان نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے اپنی زندگی ہی میں بیداری میں دیکھے گا۔ خواص اولیاء تو ظاہر ظہور دیکھیں گے ہم جیسے عوام جن میں ضبط کا مادہ نہیں راز چھپا نہیں سکتے وہ مرتے وقت جب زبان بند ہوجائے گی تب پہلے مجھے دیکھیں گے بعد میں وفات پائیں گے تاکہ وہ راز ظاہر نہ کرسکیں۔چنانچہ حضرت عبدالله ابن عباس نے ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا بیدار ہوکر اس حدیث میں غور کیا اور سوچا کہ اب میں حضور انور کو بیداری میں کیونکر دیکھوں گا،آپ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے گھر تشریف لائے حضرت میمونہ نے حضور کا آئینہ آپ کو دیا جس میں حضور انور اپنا چہرہ انور دیکھا کرتے تھے حضرت ابن عباس نے جب آئینہ دیکھا تو اس میں بجائے اپنی صورت کے حضور کی صورت شریف نظر آئی اپنی صورت بالکل نظر نہ آئی،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔چوتھے یہ کہ میرے زمانہ حیات شریف میں جو مسلمان مجھ تک نہ پہنچ سکا اس نے مجھے خواب میں دیکھ لیا وہ ان شاءالله عنقریب مجھ تک پہنچ جائے گا اور میری زیارت کرلے گا مگر تیسرے معنی بہت قوی ہیں اور یہ بشارت عام مسلمانوں کے لیے ہے۔
۲؎ یہ حضور کا وہ معجزہ ہے جو تاقیامت باقی ہے کہ جیسے شیطان زندگی شریف میں آپ کی شکل اختیار نہیں کرسکتا تھا یوں ہی تاقیامت کسی کے خواب میں حضور کی شکل میں نہیں آسکتا حضور انور کے سواء اور تمام کی شکلوں میں آجاتا ہے،خواب میں باتیں کرجاتا ہے مرد یا عورت کو احتلام اس کی مہربانی سے ہوتا ہے۔
|
4612 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفُلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أحدا فَإِنَّهَا لن تضره» |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اچھی خواب الله کی طرف سے ہے اور بری خواب شیطان کی طرف سے ۱؎ تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے ۲؎ اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کی شر سے اور شیطان کی شر سے الله کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگی ۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع