30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی جو شخص خواب میں ایک شکل دیکھے اور سمجھے کہ یہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہیں تووہ حضور اقدس ہی ہیں شیطان آپ کی شکل بن کر نہیں آیا خواہ وہ شخص حضور کو بچپن شریف کی عمر میں دیکھے یا جوانی کی عمر میں یا بڑھاپے شریف کی عمر میں۔ خیال رہے کہ خواب میں حضور کا نورانی چہرہ چمکدار دیکھنا اپنے درستی عقائد کی علامت ہے اور چہرہ انور میں سیاہی دیکھنا اپنے دل کی سیاہی بدعقیدگی ہے،حضور کا لباس صاف سفید اپنے نیک اعمال ہونے کی علامت ہے،لباس مبارک کثیف دیکھنا اپنے اعمال خراب ہونے کی علامت ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم آئینہ حق نما ہے آئینہ میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔شعر
گفت من آئینہ منقول دوست ترکی و ہندی بہ بیند آنچہ است
اگر خواب میں حضور کوئی ناجائز حکم دیں تو وہ ہمارے اپنے سننے میں فرق ہے،کسی نے خواب میں دیکھا کہ حضور فرماتے ہیں اشرب خمرا تم شراب پیو اس کی تعبیر دی گئی کہ حضور نے فرمایا ہے لا تشرب تو نے غلطی سے سن لیا اشرب یا خمر سے مراد شراب طہور شراب محبت ہے۔
۲؎ علماء فرماتے ہیں کہ شیطان خواب میں خدا بن کر آسکتا ہے مگر مصطفی بن کر نہیں آسکتا کیونکہ حضور ہادی مطلق ہیں اور شیطان مضل مطلق گمراہ گر ہادی کی شکل میں کیسے آئے ضدین جمع نہیں ہوسکتیں الله تعالٰی ہادی بھی ہے مضل بھی دیکھو مدعی الوہیت کے ہاتھ پر عجائبات ظاہر ہوسکتے ہیں جیسے دجال مگر مدعی نبوت کے ہاتھ پر کبھی عجائبات ظاہر نہیں ہوسکتے۔(اشعۃ اللمعات)
|
4610 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ» |
روایت ہے ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا ۱؎ (مسلم و بخاری) |
۱؎ اس حدیث کے چند معنی کیے گئے ہیں:ایک یہ کہ دیکھنے سے مراد ہے خواب میں دیکھنا اور حق سے مراد ہے واقعی دیکھنا باطل کا مقابل یعنی جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے واقعی مجھے دیکھا وہ شکل خیالی یا شیطانی نہیں میری ہے۔دوسرے یہ کہ تاقیامت جو ولی بیداری میں مجھے دیکھے گا وہ مجھ ہی کو دیکھے گا۔شیطان میری شکل میں اس کے سامنے نہ آئے گا۔بعض اولیاء بیداری میں حضور کو دیکھتے آپ سے کلام کرتے ہیں،مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں۔شیخ ابو مسعود ہر نماز کے بعد حضور انور سے مصافحہ کرتے تھے،ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور انور نے فرمایا اے علی اپنے کپڑے پاک رکھو،نور الدین یحیی نے روضہ انور سے جواب سلام سنا،شیخ ابوالعباس کہتے ہیں کہ اگر میں ایک ساعت بھی حضور کا جمال نہ دیکھو تو اپنے مرتد ہوجانے کا فتویٰ دوں،حضرت غوث پاک وعظ فرمارہے تھے کہ شیخ علی ابن ہیتی سامنے بیٹھے تھے کہ انہیں نیند آگئی حضور غوث پاک منبر سے اتر کر ان کے پاس باادب کھڑے ہوگئے اور حاضرین سے فرمایا با ادب رہو خاموش رہو کچھ دیر بعد علی بیدار ہوئے جناب غوث پاک نے فرمایا اے علی کیا تم نے خواب میں حضور کی زیارت کی بولے ہاں،فرمایا اس لیے میں تمہارے پاس پاس باادب کھڑا ہوگیا،فرمایا تم کو حضور نے کیا حکم دیا عرض کیا آپ کی مجلس میں حاضر رہنے کا،شیخ علی نے کہا کہ جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا جناب غوث نے بیداری میں دیکھا غرضکہ بیداری میں حضور کو دیکھنا اولیاءالله سے ثابت ہے یہ حدیث اس کی دلیل ہے۔(اشعۃ اللمعات) کوئی شخص اس دنیا میں آنکھوں سے بیداری میں رب تعالٰی کو نہیں دیکھ سکتا،قرآن مجید فرماتا ہے:"لَا تُدْرِکُہُ الۡاَبْصٰرُ"ان آنکھوں سے رب کو صرف حضور انور نے بیداری میں دیکھا مگر زمین پر رہ کر نہیں بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع