دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۳؎ سبحان الله! یہ ہے حضور کی سادہ اور بے تکلف زندگی۔

۴؎ بعض روایات میں ہے کہ کسی صاحب نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے تمنا کی کہ میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا کھانا کھاؤں،آپ فرمانے لگیں تم نہ کھا سکو گے یہ تو ان کی ہی شان تھی جو کھا گئے اور واقعہ ہے کہ ہم گندم کی روٹی بے چھنے آٹے کی نہیں کھاسکتے چہ جائیکہ جو کی روٹی وہ بھی بے چھنے آٹے کی۔شعر

کھانا جو دیکھو جو کی روٹی بے چھنا آٹا روٹی بھی موٹی                  وہ بھی شکم بھر روز نہ کھانا صلی الله علیہ وسلم

جس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن ناغہ اک دن کھانا                                 جس دن کھانا شکر کا کرنا صلی الله علیہ وسلم

قبضہ میں جس کے ساری خدائی اس کا بچھونا ایک چٹائی              نظروں میں کتنی ہیچ ہے دنیا صلی الله علیہ وسلم

4172 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كرهه تَركه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضور نے کبھی کھانے کو عیب نہیں لگایا اگر پسند فرمایا تو اسے کھالیا اگر ناپسند فرمایا تو چھوڑ دیا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی کھانے پکانے میں کبھی عیب نہ نکالا کہ نمک کم ہے یا زیادہ جیسا بعض لوگوں کا عام طریقہ ہے کہ بغیر عیب نکالے کھانا کھاتے ہی نہیں۔گوہ کے متعلق یہ فرمانا کہ یہ ہماری زمین میں نہیں ہوتی اس لیے ہم اس سے گھن کرتے ہیں،یہ کراہت طبع کا بیان تھا پکانے میں عیب نہ نکالا گیا تھا لہذا وہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

4173 -[15]

وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سبعةِ أمعاء».رَوَاهُ البُخَارِيّ 4174 -[16]  و 4175 -[17]

وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ الْمسند مِنْهُ فَقَط

4176 -[18] وَفِي أُخْرَى لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَة أمعاء»

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک شخص بہت کھاتا تھا پھر وہ مسلمان ہوگیا تو کھانا کم کھانے لگا ۱؎ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۲؎ (بخاری)

اور مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اور ابن عمر سے صرف مسند کی روایت کی ۳؎ اور ان کی دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ہوا ۴؎ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا تو دوہی گئی اس نے اس کا دودھ پیا پھر دوسری اس نے وہ بھی پی لیا پھر اور،وہ اسے بھی پی گیا حتی کہ سات بکریوں کا ۵؎ دودھ پی گیا صبح کے وقت مسلمان ہوگیا ۶؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا وہ دو ہی گئی اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر دوسری کا حکم دیا تو اسے نہ پی سکا ۷؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۸؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن