30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4603 -[12] وَعَن الربيعِ مِثْلُهُ وَزَادَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ وَلَا رِزْقَهُ وَلَا مَوْتَهُ وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ |
اور ربیع سے اسی کی مثل مروی ہے اور یہ زیادتی ہے کہ رب کی قسم! اللہ نے تارے میں نہ کسی کی زندگی رکھی ہے نہ رزق نہ موت یہ لوگ اللہ پر جھوٹ ہی باندھتے ہیں اور تاروں سے بہانہ بناتے ہیں ۱؎ |
۱؎ یعنی انتظامات دنیا مخلوق کی موت و زندگی،فراخی،تنگی،بارش وخشکی میں تارے موثر نہیں یہ سب کچھ اللہ کی قدر ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ تارے حالات میں موثر نہیں ہاں بعض حالات کی علامات ہیں۔اور علامات سے حالات وابستہ نہیں ہوتے بادل بارش کی علامت ہے۔اس کی علت نہیں بارہا بادل آتے ہیں بارش نہیں ہوتی۔صحبت اولاد کی علامت یا حد درجہ سبب ہے اس کی علت نہیں لہذا علم نجوم باطل بھی ہے اور صحیح بھی موثر ماننا باطل ہے علامت ماننا برحق ہے۔
|
4604 -[13] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَبَسَ بَابًا مِنْ عِلْمِ النُّجُومِ لِغَيْرِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ الْمُنَجِّمُ كَاهِنٌ والكاهنُ ساحرٌ والساحرُ كافرٌ» . رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص علم نجوم کا کوئی باب اس کے سوا کے لیے حاصل کرے جو اللہ نے ذکر فرمایا ۱؎ تو اس نے جادو کا حصہ سیکھا،نجومی کاہن،جادوگر،اور کاہن جادو گر کافر ہے ۲؎(رزین) |
۱؎ یعنی گزشتہ مذکورہ تین چیزوں کے سوا اور چیزیں ستاروں سے معلوم کرے۔
۲؎ کہ جادو گر اپنے عمل سے اور کاہن اپنی باتوں سے لوگوں کے دلوں پر اثر کرتے ہیں یہ دونوں عمل یا کفر ہیں۔یا کفر ان یعنی ناشکری یہ پہلے بتایا گیا کہ علم نجوم کفر بھی ہے حرام بھی ہے اور درست بھی۔
|
4605 -[14] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ ". رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے ابو سعید سے،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر اللہ اپنے بندوں سے پانچ سال بارش روک لے پھر بھیجے ۱؎ تب بھی لوگوں کا ایک ٹولہ کافر ہی ہو کہ وہ کہیں کہ ہم برج مجدح کی وجہ سے برسائے گئے ۲؎(نسائی) |
۱؎ پانچ سال کا ذکر بطور مثال ہے اس سے مقصود دراز مدت ہے یعنی اگر دراز مدت اور بہت انتظار کے بعد بھی بارش آوے تب بھی شکر نہیں کرتے کفر ہی کرتے ہیں۔
۲؎ مجدح میم کے کسرہ سے چاند کی ایک خاص منزل کا نام ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ جب چاند اس میں داخل ہوتا ہے تو ضرور بارش آتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ مجدح تین تاروں کا نام ہے جن کے متعلق عرب کا عقیدہ تھا کہ بارش ان سے ہوتی ہے۔(اشعہ مرقات)جدح کہتے ہیں ستو گوندھنے کو ان تاروں کی شکل و ترتیب ایسی واقع ہے۔جیسے کوئی بیٹھا ہوا ستو گوندھ رہا ہے اس لیے انہیں مجدح کہتے ہیں۔جیسے عقرب قوس وغیرہ منزل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع