دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۹؎ یعنی بعض دفعہ یہ جن یہ باتیں سنا کر شہاب سے مارے جاتے ہیں اور کبھی اس سے پہلے ہی۔

۱۰؎یعنی جب یہ کاہن لوگ وہ بات جو اس جن سے سنی ہے وہ لوگوں کو بتاتے ہیں تو حق ہوتی ہے اس کے علاوہ جو بتاتے ہیں وہ ناحق ہوتی ہے۔

 ۱۱؎ یہ زیادتی ننانوے فی صد ہوتی ہے یعنی سو میں ایک بات درست اور ننانوے باتیں جھوٹی ہوتی ہیں۔

4602 -[11]

وَعَن قتادةَ قَالَ: خلقَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِه النجومَ لثلاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بهَا فَمن تأوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ وَتَكَلَّفَ مَالا يَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ: «تكلّف مَالا يعنيه ومالا عِلْمَ لَهُ بِهِ وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الْأَنْبِيَاء وَالْمَلَائِكَة»

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تاروں کو تین مقصدوں کے لیے پیدا فرمایا ۲؎ انہیں آسمان کی زینت اور شیاطین کی مار بنایا ۳؎ اور نشانیاں بنایا جن سے ہدایت لی جاوے ۴؎ تو جوان میں اس کے سوا تاویل کرے ۵؎ اس نے خطا کی اور اپنا حصہ ضائع کیا اور اس کا تکلف کیا جو وہ جانتا نہیں ۶؎ اسے بخاری نے تعلیقًا روایت کیا۔اور رزین کی روایت میں ہے کہ اس نے غیر مفید چیز کا تکلف کیا۔اور اس کا جس کا اسے علم نہیں،اور جس کے علم سے انبیاء و فرشتے ۷؎ عاجز نہیں

۱؎ آپ تابعی ہیں اور اس زمانہ کے مفسرین کے امام ہیں آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔

 ۲؎ یعنی تاروں کے بڑے بڑے مقصد یہ تین ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں صراحۃً ہے۔ورنہ تاروں کی پیدائش کے ہزار ہا مقصد ہیں۔

 ۳؎ چنانچہ قرآن مجید فرماتاہے:"زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصٰبِیۡحَ"اور فرماتاہے:"وَ جَعَلْنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ" یہ تارے آسمان پر ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے پتلی چادر پر رنگ برنگے سلمے ٹکے ہیں۔

۴؎ کہ تاروں سے وقت اور سمت معلوم کی جاتی ہے۔قطب تارے پر سمندری سفر،سمت قبلہ وغیرہ موقوف ہیں مسجدیں اس تارے سے بنائی جاتی ہیں رب فرماتا ہے:"وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"لہذا ستاروں کی یہ تین صفات برحق ہیں۔

۵؎ اس طرح کہ ان سے غیبی چیزیں معلوم کرے ان کو مؤثر مانے بارشیں موسم ان سے ثابت کرے جس کا نتیجہ شرک ہے۔

 ۶؎ یعنی رب تعالیٰ نے اسے ان چیزوں کا مکلف نہیں کیا وہ غیر ضروری چیزوں میں پھنس کر ضروری عبادات سے غافل ہوجاتا ہے۔

۷؎ یعنی حضرات انبیاء اورفرشتے بھی تاروں سے غیبی خبریں معلوم نہیں کرتے ان کے علوم وحی الٰہی ارشاد ربانی سے ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان حضرات کو غیبی علوم دیئے نہیں گئے مقصد یہ ہےکہ ان تاروں کے ذریعے نہیں دیئے گئے یا یہ مطلب ہےکہ حضرات انبیاء کرام نے مخلوق کو تاروں کےذریعہ ہدایت نہ دی بلکہ اپنے ارشادات اور ربانی  کلام کے ذریعے ہدایت دی علم بمعنی تعلیم لہذا تم ان تاروں میں سوچ بچار کرنے کی بجائے کتاب و سنت میں سوچ و بچار کرو۔(ازمرقات)

4603 -[12]

وَعَن الربيعِ مِثْلُهُ وَزَادَ: وَاللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي نَجْمٍ حَيَاةَ أَحَدٍ وَلَا رِزْقَهُ وَلَا مَوْتَهُ وَإِنَّمَا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَيَتَعَلَّلُونَ بِالنُّجُومِ

اور ربیع سے اسی کی مثل مروی ہے اور یہ زیادتی ہے کہ رب کی قسم! اللہ نے تارے میں نہ کسی کی زندگی رکھی ہے نہ رزق نہ  موت یہ لوگ اللہ پر جھوٹ ہی باندھتے ہیں اور تاروں سے بہانہ بناتے ہیں ۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن